
پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر، ڈالر 276 روپے 67 پیسے
کے ایس ای 100 انڈیکس 175,379 پوائنٹس پر بند — اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.56 ارب ڈالر، سونا 4,087 ڈالر فی اونس۔
اہم نکات
- کے ایس ای 100 انڈیکس 175,379.86 پوائنٹس پر بند، ایک روز میں 3,366 پوائنٹس کا اضافہ
- تین روز میں انڈیکس میں تقریباً 8,800 پوائنٹس کا اضافہ ہوا
- اسٹیٹ بینک کے ذخائر 39 ملین ڈالر بڑھ کر 21.56 ارب ڈالر ہو گئے
- ملک کے مجموعی ذخائر 26.86 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے
- ڈالر 276 روپے 67 پیسے، سونا 4,087 ڈالر فی اونس
کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو کے ایس ای 100 انڈیکس 3,366.38 پوائنٹس یعنی 1.96 فیصد اضافے کے ساتھ 175,379.86 پوائنٹس پر بند ہوا، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل بدھ کو انڈیکس نے 3,994.62 پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا اور پہلی بار 172,000 کی حد عبور کی تھی۔ اس طرح تین کاروباری روز میں انڈیکس میں تقریباً 8,800 پوائنٹس کا اضافہ ہو چکا ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ تیزی اس لیے بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے صرف ایک ہفتہ قبل مارکیٹ میں مندی کا ماحول تھا۔ اکتوبر کے مہینے میں انڈیکس 3,560 پوائنٹس گر کر 166,409 پر بند ہوا تھا اور اوسط روزانہ حجم میں 21.8 فیصد کمی آئی تھی۔ لیکن نومبر کے پہلے ہفتے میں صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔ منگل کو انڈیکس 1,454.80 پوائنٹس بڑھ کر 168,018.87 پر بند ہوا، بدھ کو 172,013.48 پر اور جمعرات کو 175,379.86 پر۔ اس طرح اکتوبر کی پوری کمی دو روز میں ہی پوری ہو گئی۔
جمعرات کو مارکیٹ میں 999.81 ملین حصص کا کاروبار ہوا اور لین دین کی مالیت 46.06 ارب روپے رہی۔ یہ حجم اکتوبر کے اوسط 471.9 ملین حصص سے کہیں زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی شرکت واپس آ رہی ہے۔ مارکیٹ کی تکنیکی صورتحال بھی مضبوط نظر آ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس کی حمایت 173,800 سے 174,300 کے درمیان ہے، اور اگر 176,600 کی حد عبور ہو گئی تو اگلا ہدف 178,500 ہو سکتا ہے۔
تیزی کی وجوہات کیا ہیں
اس تیزی کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی امیدیں ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہوئی تو خطے میں استحکام آئے گا اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ دوسری وجہ امریکہ کے مڈٹرم انتخابات کے نتائج ہیں، جن میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کو لگتا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد عالمی سطح پر بھی کئی مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی تھی۔
تیسری وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ اس سے درآمدی بل کم ہوتا ہے اور مہنگائی پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ چوتھی وجہ ملک میں موجود بڑی رقم یعنی لیکویڈیٹی ہے۔ بینکوں اور اداروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے رقم موجود ہے اور وہ اسے اسٹاک مارکیٹ میں لگا رہے ہیں۔
تاہم ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ کئی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تیزی امیدوں پر مبنی ہے، حقائق پر نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ابھی طے نہیں ہوئے ہیں اور واشنگٹن و تہران میں فیصلے ابھی باقی ہیں۔ مارکیٹ نے ان فیصلوں سے قبل ہی تیزی دکھا دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی رکاوٹ آئی تو مارکیٹ میں اچانک گراوٹ بھی آ سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو اس خطرے کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔
کن شعبوں نے ساتھ دیا
جمعرات کی تیزی میں کمرشل بینکوں کا شعبہ سب سے آگے تھا، جس نے انڈیکس میں 1,296.92 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ یعنی یو بی ایل نے اکیلے 326.10 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ سیمنٹ کے شعبے نے 625.60 پوائنٹس کا اضافہ کیا، جس میں لکی سیمنٹ نے 307.03 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ اس کے علاوہ میزان بینک، سسٹمز لمیٹڈ اور اینگرو ہولڈنگز نے بھی انڈیکس کو سہارا دیا۔
بینکوں کی تیزی کی وجہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ہفتے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کر کے اسے 12 فیصد کر دیا تھا۔ اگرچہ زیادہ شرح سود عام طور پر مارکیٹ کے لیے منفی سمجھی جاتی ہے، لیکن بینکوں کی آمدنی شرح سود بڑھنے سے بہتر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بینکوں کے حصص میں تیزی آئی۔ سیمنٹ کے شعبے کی تیزی کی وجہ تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری اور حکومتی منصوبوں کی امیدیں ہیں۔
ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں نے بھی اچھی کارکردگی دکھائی۔ سسٹمز لمیٹڈ جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، کیونکہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اینگرو ہولڈنگز کی کارکردگی بہتر رہی۔ مجموعی طور پر تیزی صرف ایک یا دو شعبوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ مارکیٹ کے بیشتر حصوں میں خریداری دیکھی گئی، جو ایک صحت مند تیزی کی علامت ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ذخائر ریکارڈ سطح پر
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر میں بھی اضافہ جاری ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 39 ملین ڈالر بڑھ کر 21.56 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس سے قبل والے ہفتے میں ذخائر 21.52 ارب ڈالر تھے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں بھی 71 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور وہ 5.30 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس طرح ملک کے مجموعی مائع زر مبادلہ ذخائر 110 ملین ڈالر بڑھ کر 26.86 ارب ڈالر ہو گئے، جو ریکارڈ سطح ہے۔
یہ اضافہ ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے۔ فروری میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16.57 ارب ڈالر تھے، جو 30 اکتوبر تک بڑھ کر 21.57 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آٹھ ماہ میں ذخائر میں تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مرکزی بینک کو توقع ہے کہ ذخائر دسمبر 2026 تک 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ اگر یہ ہدف حاصل ہو گیا تو ذخائر چار ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔
ذخائر میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، برآمدات میں بہتری آئی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت فنڈنگ جاری ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے دوست ممالک سے بھی مالی مدد حاصل کی ہے۔ ذخائر کا بڑھنا ملک کی معاشی صورتحال کے لیے مثبت علامت ہے، کیونکہ اس سے روپے کی قیمت مستحکم رہتی ہے اور ملک کو بیرونی ادائیگیوں میں مشکلات نہیں ہوتیں۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذخائر کی سطح پر ہی توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے۔ ڈان اخبار کے مطابق جولائی سے اکتوبر کے دوران تجارتی خسارہ 14.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس میں درآمدات 26 ارب ڈالر اور برآمدات صرف 11.4 ارب ڈالر رہیں۔ کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روپیہ زیادہ قیمت پر ہے، جس کی وجہ سے درآمد کنندگان کو سستے ڈالر مل رہے ہیں اور تجارتی خسارہ ہر ماہ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے ذخائر کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
روپیہ اور ڈالر کی صورتحال
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت 276 روپے 67 پیسے رہی۔ جمعرات کو روپے کی قیمت میں 3 پیسے کی بہتری آئی، کیونکہ بدھ کو ڈالر 276 روپے 70 پیسے پر بند ہوا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی مارک ٹو مارکیٹ شرح 276.6701 رہی، جبکہ خرید کی شرح 276.3552 اور فروخت کی شرح 276.8121 رہی۔ نیشنل بینک کی جانب سے ڈالر کی فروخت کی شرح 278.44 روپے درج کی گئی۔
روپیہ گزشتہ ایک سال سے تقریباً 277 روپے فی ڈالر کے آس پاس مستحکم ہے۔ یہ استحکام اسٹیٹ بینک کی پالیسی اور ذخائر کی بہتری کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ مالیاتی شعبے کا خیال ہے کہ موجودہ ذخائر شرح تبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے کافی ہیں اور برآمد کنندگان کو اپنی آمدنی واپس لانے کی ترغیب مل رہی ہے۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی موجودہ قیمت اس کی اصل قیمت سے زیادہ ہے، جس سے برآمدات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور درآمدات سستی ہو رہی ہیں۔
روپے کے استحکام کا عام لوگوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جب ڈالر کی قیمت مستحکم رہتی ہے تو درآمد شدہ اشیا، جن میں پیٹرول، کھانے کا تیل اور ادویات شامل ہیں، کی قیمتیں بھی مستحکم رہتی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی ایک وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور روپے کا استحکام بھی ہے۔ اگر روپیہ گرنے لگے تو مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے اسٹیٹ بینک روپے کی قیمت پر گہری نظر رکھتا ہے۔
سونا مہنگا، سرمایہ کار محفوظ پناہ کی طرف
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,087 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے، جو سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سونے کی عالمی قیمت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,095.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ کاروبار کے دوران یہ 4,146.63 ڈالر تک بھی گئی، جو 20 اکتوبر کے بعد سے بلند ترین سطح تھی۔ سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ ڈالر کی کمزوری، ٹریژری کی پیداوار میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مہنگائی کے خدشات میں کمی ہے۔
پاکستان میں بھی سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی قیمت میں 9,600 روپے فی تولہ اضافہ ہوا اور یہ 435,636 روپے فی تولہ ہو گئی۔ دس گرام سونے کی قیمت 8,230 روپے بڑھ کر 373,487 روپے ہو گئی۔ اس سے قبل ایک روز میں سونے کی قیمت میں 13,900 روپے کا اضافہ ہو کر 426,036 روپے فی تولہ ہوئی تھی۔ سونے کی قیمت میں یہ اضافہ عام لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ شادیوں کے موسم میں سونا خریدنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سونے کی قیمت میں اضافے کی عالمی وجوہات بھی ہیں۔ جب دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونا خریدتے ہیں، کیونکہ سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں حالیہ گراوٹ کے دوران بھی سونے کی قیمت 4,100 ڈالر سے اوپر چلی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری میں اضافہ بھی قیمتوں کو سہارا دے رہا ہے۔
ایل پی جی میں سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کا زور
حکومت ایل پی جی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں گیس کی فراہمی کو بہتر بنانا اور ایل پی جی کی درآمد اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔ پاکستان میں سردیوں میں گیس کی قلت ایک پرانا مسئلہ ہے اور ایل پی جی اس کا ایک متبادل ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو گھریلو اور صنعتی صارفین کو فائدہ ہوگا۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔ اس وقت پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ مزید تیز رفتاری سے کام ہو۔ ٹیکس کا دائرہ وسیع ہونے سے حکومت کی آمدنی بڑھے گی اور بجٹ خسارہ کم ہوگا۔
آگے کا منظر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اعلان کیا ہے کہ پیر 9 نومبر کو علامہ اقبال ڈے کے موقع پر مارکیٹ بند رہے گی۔ بینک بھی 7 سے 9 نومبر تک بند رہیں گے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو جمعہ کے روز اپنی حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔ اگلے ہفتے مارکیٹ کی توجہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات، عالمی مارکیٹوں کی صورتحال اور آئی ایم ایف سے متعلق خبروں پر ہوگی۔
معیشت کے مجموعی منظر نامے میں بہتری کے آثار ہیں، لیکن چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 2023 کے بعد سے 300 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے اور یہ تیزی بڑی حد تک آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے ہے۔ تاہم مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے ہدف سے زیادہ ہے اور شرح سود 12 فیصد پر ہے، جس سے کاروبار کے لیے قرض لینا مہنگا ہے۔ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے، برآمدات بڑھانے اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے پر توجہ دینی ہوگی تاکہ معاشی بہتری مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے۔
عام سرمایہ کاروں کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ مارکیٹ میں تیزی کے دوران کئی لوگ جلدی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاری سے قبل کمپنیوں کے مالی نتائج اور مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے اور صرف وہی رقم لگانی چاہیے جس کا نقصان برداشت کیا جا سکے۔ یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
