
پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا — پیٹرول 9.41 روپے اور ڈیزل 5.56 روپے فی لیٹر سستا، نئی قیمتیں فوری نافذ۔
اہم نکات
- پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا ہو کر 352 روپے 59 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 5 روپے 56 پیسے کمی سے 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر ہو گیا
- قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہے، برینٹ خام تیل 99 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے
- امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد برینٹ ایک ہفتے میں تقریباً 17 فیصد گر کر 100 ڈالر سے نیچے آ گیا تھا
- پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد ہے
- 30 اکتوبر کو منظور شدہ نئے فارمولے کے تحت ریفائنریوں کو جنگ سے قبل کی قیمتوں پر ادائیگی کی جا رہی ہے
- وزیراعظم نے ایندھن کی سبسڈی دسمبر کے آخر تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 41 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 56 پیسے فی لیٹر سستا ہوا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 352 روپے 59 پیسے ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ کمی ملک بھر کے کروڑوں صارفین کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے، جو مہنگائی کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔
قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہے جبکہ امریکی خام تیل 91 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کا براہ راست فائدہ پاکستان کے صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 4 نومبر کو بھی پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 45 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 68 پیسے کی کمی کی گئی تھی، جس سے پیٹرول کی قیمت 369 روپے 6 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 391 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد 5 نومبر کو قیمتیں مزید کم ہو کر پیٹرول 362 روپے اور ڈیزل 387 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گئیں، اور اب تازہ کمی کے بعد نئی قیمتیں نافذ کی گئی ہیں۔
نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 352 روپے 59 پیسے ہو گئی ہے۔ یہ گزشتہ چند ہفتوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والی مسلسل کمی کا سلسلہ ہے، جس سے عام آدمی کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اثر براہ راست ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے، کیونکہ ملک میں بیشتر سامان کی ترسیل سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اثر خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، تجارتی رسد اور زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت کیسے طے ہوتی ہے؟
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، جسے اوگرا کہا جاتا ہے، کی سفارش پر وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ اوگرا 2002 میں قائم ہونے والا ادارہ ہے، جس کی ذمہ داریوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سفارش، تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو لائسنس دینا اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔ تاہم، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اوگرا صرف قیمتوں کی سفارش کرتا ہے، حتمی فیصلہ وفاقی حکومت، خاص طور پر وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن، وزارت خزانہ اور وزیراعظم کی مشاورت سے کرتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا حساب بین الاقوامی منڈی میں ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان خام تیل کے بجائے زیادہ تر ریفائنڈ موٹر گیسولین اور گیس آئل درآمد کرتا ہے، جن کی قیمتوں کا تعین عالمی قیمتوں کی رپورٹنگ کرنے والی کمپنی پلیٹس کے عرب خلیج کے نرخوں سے ہوتا ہے۔ جولائی 2026 میں منظور شدہ نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت پلیٹس کے عرب خلیج کے نرخوں کے سات روزہ اوسط کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ اوگرا اب روزانہ کی بنیاد پر ایکس ڈپو قیمتیں شائع کرتا ہے اور اس کے لیے ہر بار وفاقی حکومت کی منظوری درکار نہیں ہوتی۔ روایتی طور پر قیمتیں ہر مہینے کی یکم اور 16 تاریخ کو نافذ ہوتی تھیں، لیکن عالمی منڈی میں تیزی سے تبدیلیوں کے پیش نظر اب روزانہ جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کئی اجزا پر مشتمل ہوتی ہے۔ سب سے بڑا حصہ ایکس ریفائنری قیمت کا ہوتا ہے، جو اس نرخ پر ریفائنری تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو پیٹرول فروخت کرتی ہے، اس سے قبل کہ اس میں سرکاری ٹیکس، ڈیوٹیاں اور تقسیم کے اخراجات شامل کیے جائیں۔ 4 نومبر کے چکر میں پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 274 روپے 41 پیسے فی لیٹر تھی، جو اس سے قبل 278 روپے 86 پیسے تھی، جبکہ ڈیزل کی درآمدی لاگت 283 روپے 59 پیسے فی لیٹر تھی، جو اس سے قبل 287 روپے 27 پیسے تھی۔ اس کے علاوہ قیمت میں پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹم ڈیوٹی، ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز کا مارجن شامل ہوتا ہے۔
قیمت میں ٹیکسوں کا حصہ کتنا ہے؟
پیٹرول کی قیمت میں سرکاری ٹیکسوں کا حصہ بہت نمایاں ہے۔ پیٹرولیم لیوی دونوں ایندھنوں پر 80 روپے فی لیٹر مقرر ہے اور یہ قیمت کا سب سے بڑا ٹیکسی جزو ہے۔ اس کے علاوہ 5 روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی عائد ہے۔ ڈیلرز کو 9 روپے 98 پیسے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر مارجن ملتا ہے۔ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن پیٹرول کے لیے 7 روپے 51 پیسے اور ڈیزل کے لیے 5 روپے 8 پیسے فی لیٹر ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی قیمتوں کو یکساں رکھنا ہے۔ اگست 2026 کے اعداد کے مطابق پیٹرول پر کسٹم ڈیوٹی 17 روپے 28 پیسے فی لیٹر تھی۔
پیٹرولیم لیوی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک مقررہ رقم ہے، فیصد نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گرتی ہے تو لیوی خود بخود کم نہیں ہوتی، بلکہ حکومت کو اس میں کمی کا الگ سے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں کے دوران حکومت پر ہمیشہ یہ دباؤ رہتا ہے کہ وہ لیوی کو برقرار رکھے یا بڑھائے تاکہ مالی اہداف پورے کیے جا سکیں۔ لیوی کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ یہ وفاق کی ناقابل تقسیم آمدنی ہے، یعنی یہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبوں کے ساتھ بانٹی نہیں جاتی، جبکہ جنرل سیلز ٹیکس صوبوں کے ساتھ بانٹنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی کو جنرل سیلز ٹیکس سے بدلنے کی آئی ایم ایف کی تجاویز کی مزاحمت کرتی رہی ہے۔
کلائمیٹ سپورٹ لیوی گزشتہ سال کے وفاقی بجٹ میں متعارف کرائی گئی تھی، جب اس کی شرح 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر تھی۔ 2026 کے وفاقی بجٹ میں اسے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے، اس لیے یہ چارج ماحولیاتی اقدامات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد یہ لیویاں اب توانائی کی پالیسی کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ سرکاری خزانے کو بھرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کو بتدریج کم کر کے 5 سے 10 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے کی سالانہ آمدنی کے فرق کو نئے ٹیکسوں، مراعات کے خاتمے اور اخراجات میں بچت سے پورا کرنے کی بات کی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کیا ہوا؟
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ہفتے ڈرامائی کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل، جو عالمی تیل کی تجارت کے نصف سے زیادہ کا معیار ہے، جمعے کو 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا اور اتوار کو 113 ڈالر پر تھا۔ اس کے بعد امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آئے، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کو امید پیدا ہوئی کہ ایران کے ساتھ جنگ میں کمی آ سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں جنگ کا خطرہ کم ہو گیا۔
بدھ 4 نومبر کو برینٹ کی قیمت ایک ہی دن میں تقریباً 10 فیصد گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جو ستمبر کے بعد پہلی بار ہوا۔ بعض رپورٹس کے مطابق برینٹ 93 ڈالر 52 سینٹ تک گر گیا تھا، جبکہ امریکی خام تیل تقریباً 87 سے 89 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔ ہفتے کے دوران برینٹ میں مجموعی کمی تقریباً 17 فیصد رہی، جو وبائی مرض کے دوران اپریل 2020 کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہے۔ جمعرات کو برینٹ 94 ڈالر کے آس پاس ٹریڈ کر رہا تھا، لیکن جمعہ 6 نومبر کی صبح ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہازوں پر مزید حملوں کی اطلاعات کے بعد برینٹ کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 99 ڈالر 90 سینٹ تک پہنچ گئی۔
ڈیزل کی قیمت میں کمی کی ایک وجہ عالمی منڈی میں ڈیزل کے کر یک اسپریڈ میں کمی بھی ہے، جو 41 ڈالر 89 سینٹ سے کم ہو کر 38 ڈالر فی بیرل رہ گیا۔ کر یک اسپریڈ خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے، اور اس میں کمی کا مطلب ہے کہ ریفائنریوں کے لیے ڈیزل بنانا نسبتاً سستا ہو گیا ہے۔ عالمی منڈیوں میں بڑی گراوٹ کے دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار ایران کی صورتحال اور امریکی انتخابات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔
ایران امریکہ جنگ اور پیٹرول کا نیا فارمولا
پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے پیچھے 30 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور شدہ ایک نیا فارمولا بھی ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین کو بچانے کے لیے حکومت نے موٹر اسپرٹ کی قیمتوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کی تھی۔ اس نئے انتظام کے تحت پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین پاکستان اسٹیٹ آئل کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر کسی دن کی قیمت کے لیے اصل درآمدی لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس انتظام کا دوسرا حصہ مقامی ریفائنریوں سے متعلق ہے۔ اگلے 30 روز تک ریفائنریوں کو پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 7 مارچ 2026 کی جنگ سے قبل کی سطح پر مقرر پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔ درآمدی قیمت اور ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان جو فرق پیدا ہو گا، وہ ریفائنریوں کو پیٹرولیم لیوی کے کھاتے میں جمع کرانا ہوگا۔ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ صرف پیٹرول کی قیمت میں کمی کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت کے مطابق اس انتظام کا مجموعی اثر 15 ارب روپے ہے، جو ریفائنریاں برداشت کریں گی۔
پیٹرولیم ڈویژن نے تمام آئل ریفائنریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فرق کی رقوم اوگرا کی قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے نوٹیفکیشن کے مطابق جمع کرائیں۔ ریفائنریوں کو روزانہ کی بنیاد پر مقامی پیٹرول کی فروخت کی رپورٹیں، کمپیوٹرائزڈ ادائیگی کی رسیدیں اور چالان پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو بھیجنا ہوں گے تاکہ ان کی تصدیق اور موازنہ کیا جا سکے۔ اوگرا نے ریفائنریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت 49 روپے سے زائد کی ایڈجسٹمنٹ جمع کرائیں۔ حکام کے مطابق 30 اکتوبر کو اعلان شدہ قیمتیں اسی نئے فارمولے کے تحت طے کی گئی تھیں، جس سے قیمتوں میں بڑے اضافے کو ٹالنے میں مدد ملی تھی۔
صارفین اور معیشت پر کیا اثرات پڑیں گے؟
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عام صارفین کو پہنچے گا۔ موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے افراد کے ماہانہ ایندھن کے اخراجات میں کمی آئے گی، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر بھی دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ ڈیزل سستا ہونے سے سامان کی ترسیل کی لاگت کم ہوگی، جس سے اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ زرعی شعبے میں بھی ڈیزل کی قیمت میں کمی سے فائدہ ہوگا، کیونکہ ٹیوب ویل اور زرعی مشینری ڈیزل پر چلتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مزید سستی ہو سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں بھی کمی آنے کی امید ہے۔ اگر برینٹ کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے برقرار رہتی ہے تو دسمبر تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہے۔ تاہم، ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا ایران کے ساتھ جنگ میں دوبارہ شدت آنے کی صورت میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ بھی سکتی ہیں، جیسا کہ جمعہ کی صبح قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ایندھن کی سبسڈی کا پروگرام دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا، جس سے صارفین کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور روپے کے مقابلے میں ڈالر 276 روپے 67 پیسے پر مستحکم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر بھی بڑھ کر 21 ارب 56 کروڑ ڈالر ہو گئے ہیں، جو معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
یاد رہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ہر پندرہ روز بعد عالمی قیمتوں کے مطابق تبدیل کی جاتی ہیں۔ اگلی نظرثانی میں عالمی منڈی کی صورتحال، روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت اور حکومت کی ٹیکس پالیسی اہم کردار ادا کریں گی۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو صارفین کو مزید ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ لیکن اگر ایران کے ساتھ جنگ میں شدت آتی ہے یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔
صارفین کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کا فائدہ اسی صورت میں مکمل طور پر ملتا ہے جب ٹرانسپورٹ کے کرایے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہوں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایندھن سستا ہونے کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے اور ٹرانسپورٹرز اور دکاندار قیمتیں کم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، توانائی کے تحفظ اور متبادل ذرائع پر توجہ دینا بھی ضروری ہے تاکہ ملک عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر کم انحصار کرے۔

