تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← پاکستان ← سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف
سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف
پاکستان

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف

فونٹ سائز:

وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان غیر معینہ مدت تک خاموش تماشائی نہیں رہے گا — معاہدے کے معاملے پر کوئی بھی فیصلہ اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد ہوگا۔

اہم نکات

  • وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے اور غیر معینہ مدت تک خاموش تماشائی نہیں رہے گا
  • بھارت نے 23 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے اگلے روز معاہدے کو معطل کر دیا تھا، اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے
  • 31 اگست 2026 کو ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا
  • 1960 کا معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے چھ دریاؤں کا پانی بانٹتا ہے، جس میں سے 80 فیصد پاکستان کو ملتا ہے
  • پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگ کے مترادف ہوگی، بھارت نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے
  • رتلے منصوبے پر عدالت نے عبوری پابندیاں لگا دی ہیں، غیر جانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنا مؤقف مزید مضبوط کرے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر معینہ مدت تک خاموش تماشائی نہیں رہے گا اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اعلیٰ سطح پر مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایک نیا اور واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد پانی کے معاملے پر اپنے تمام راستے کھلے رکھے گا۔

6 نومبر 2026 کو سامنے آنے والے اس انٹرویو میں خواجہ آصف نے اشارہ دیا کہ پاکستان صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پاکستان دوسرے ذرائع سے حل کا انتظار جاری رکھے گا یا کسی سخت جواب پر غور کرے گا، تو انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور جہاں ضرورت پڑی، حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اس بات پر بات چیت ہوگی کہ کیا متبادل تلاش کیا جا سکتا ہے یا کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کسی فوجی کارروائی کا براہ راست اعلان تو نہیں کیا، لیکن ان کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوئی کہ سخت جواب کا امکان بھی زیر غور ہے۔

بھارت نے 23 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کے اگلے روز معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا تھا اور واقعے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ بھارت نے اعلان کیا تھا کہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابل اعتماد اور ناقابل واپسی طور پر ختم نہیں کرتا۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا اور مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر فوجی جھڑپ بھی ہوئی، جس کے دوران بھارت نے آپریشن سندور کے تحت کارروائی کی تھی۔

31 اگست 2026 کو ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ معاہدہ بدستور نافذ ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ معاہدے میں کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے پیش کیے گئے مختلف جوازوں، جن میں خودمختاری، معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی، آبادی اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں، موسمیاتی تبدیلی اور مسلح تنازع شامل تھے، کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ ان میں سے کوئی بھی جواز معاہدے کو معطل یا ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

پاکستان نے معاہدے کے معاملے پر سفارتی اور قانونی محاذ پر اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھایا ہے اور قانونی راستوں کے ذریعے اپنے حقوق کے تحفظ کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس میں عالمی بینک نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا اور وہ اس معاہدے کا دستخط کنندہ بھی ہے۔ اس معاہدے پر دستخط سے قبل نو برس تک مذاکرات جاری رہے تھے۔ معاہدے پر بھارت کے اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے صدر ایوب خان نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے چھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم طے کرتا ہے اور اسے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا، راوی، بیاس اور ستلج، بھارت کو دے دیے گئے، جبکہ تین مغربی دریا، سندھ، جہلم اور چناب، پاکستان کو دیے گئے۔ اس تقسیم کے مطابق دریائے سندھ کے نظام کے پانی کا تقریباً 80 فیصد، یعنی تقریباً 135 ملین ایکڑ فٹ، پاکستان کو ملتا ہے، جبکہ بھارت کو تقریباً 20 فیصد، یعنی تقریباً 33 ملین ایکڑ فٹ، پانی ملتا ہے۔ معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اوپر والے ملک کو پانی کا کم حصہ دیا گیا، جس کے بدلے میں امن اور استحکام کی ضمانت دی گئی تھی۔

معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں کا پانی گھریلو ضروریات، محدود زراعت اور بجلی پیدا کرنے جیسے غیر صارفی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ معاہدے کے ضمیمہ سی میں بھارت کو زراعت کے لیے کچھ استعمال کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ضمیمہ ڈی کے تحت وہ ان دریاؤں پر رن آف دی ریور پن بجلی کے منصوبے بنا سکتا ہے، جن میں پانی کا بڑا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ معاہدے کے آرٹیکل نو میں تنازعات کے حل کا تین درجے والا نظام درج ہے، جس کے تحت پہلے مستقل سندھ کمیشن، پھر غیر جانبدار ماہر اور آخر میں ثالثی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ معاہدے کے آرٹیکل بارہ کی شق تین کے مطابق معاہدے میں تبدیلی یا نظرثانی صرف دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ممکن ہے۔

کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر تنازع

سندھ طاس معاہدے پر تنازع کی ایک بڑی وجہ بھارت کے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبے ہیں۔ کشن گنگا منصوبہ جموں و کشمیر میں بانڈی پورہ سے 5 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، جہاں دریائے کشن گنگا کا پانی ایک سرنگ کے ذریعے دریائے جہلم کے طاس میں واقع بجلی گھر تک لے جایا جاتا ہے۔ پاکستان نے 2006 میں اس منصوبے پر پہلی بار اعتراض کیا تھا اور 2010 میں اس معاملے کو ثالثی عدالت میں لے جایا گیا تھا۔ عدالت نے بھارت کو پانی موڑنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ نیچے کی طرف پانی کا کم از کم بہاؤ برقرار رکھا جائے۔

رتلے منصوبہ دریائے چناب پر 850 میگاواٹ کا رن آف دی ریور منصوبہ ہے، جس پر پاکستان نے 2012 میں اعتراض کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ڈیزائن، خاص طور پر اسپل وے کے دروازوں کی وجہ سے بھارت کو دریا کے بہاؤ پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ دونوں منصوبے معاہدے کی دفعات کے مطابق ہیں۔ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر مائیکل لینو نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ کشن گنگا اور رتلے سے متعلق ساتوں نکات ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

31 اگست 2026 کے فیصلے میں ثالثی عدالت نے رتلے منصوبے پر عبوری پابندیاں بھی لگا دیں۔ عدالت نے بھارت کو ہدایت کی کہ وہ رتلے ڈیم کی دیوار اور بجلی گھر کے انٹیک ڈھانچے پر مخصوص سطح سے اوپر کنکریٹ کا کام نہ کرے، یہاں تک کہ غیر جانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ آنے کے 90 روز بعد تک۔ غیر جانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے۔ بھارت نے اس فیصلے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس عدالت کو تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ اس نے اس کی کارروائی میں کبھی حصہ نہیں لیا۔

بھارت نے عدالت کا فیصلہ کیوں مسترد کیا؟

بھارت نے 31 اگست 2026 کے فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے اور اسے غیر قانونی طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ عالمی بینک نے اس عدالت کو معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے تشکیل دیا تھا اور بھارت نے نہ تو اسے کبھی تسلیم کیا اور نہ ہی اس کی کارروائی میں حصہ لیا۔ بھارت نے واضح کیا کہ معاہدے کو معطل رکھنے کا اس کا فیصلہ بدستور برقرار ہے اور عدالت کے موجودہ یا مستقبل کے کسی بھی فیصلے کا بھارت کے مغربی دریاؤں پر جاری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بھارت نے 15 مئی کو جاری ہونے والے ثالثی عدالت کے ایک اور فیصلے کو بھی مسترد کر دیا تھا، جو پانی کے زیادہ سے زیادہ ذخیرے اور معاہدے کی تشریح سے متعلق تھا۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ تعلقات سے الگ تھلگ ہو کر نہیں چل سکتا اور جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا، معاہدہ معطل رہے گا۔ بھارت نے 5 جون 2026 کو بھی اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف قابل اعتماد اور ناقابل واپسی اقدامات نہیں کرتا۔

پاکستان کا مؤقف اور عالمی سطح پر کوششیں

پاکستان کا کہنا ہے کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کے حصے کو محدود کرنے کی بھارت کی کوشش کے سنگین سیکیورٹی مضمرات ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے میں کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت دینے والی کوئی شق موجود نہیں ہے، اور 31 اگست کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور اسے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بھی اس معاملے پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو بھی پاکستان کے پانی کو ہاتھ لگائے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے پانی کی فراہمی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خواجہ آصف نے جون 2026 میں ایک انٹرویو میں پانی کی سلامتی کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ جس لمحے پاکستان کو محسوس ہوگا کہ اس کی قومی سلامتی، جس کا پانی ایک حصہ ہے، کو خطرہ ہے تو پاکستان بھارت کے خلاف جنگ پر جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر بھارت بہت تیزی سے پانی روکنے یا موڑنے کے لیے ڈھانچے بنانے لگے اور اس کے ثبوت مل جائیں تو پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے بھارت پر پانی کو ہتھیار بنانے، دریائے چناب کے بہاؤ میں ہیرا پھیرا کرنے اور پانی سے متعلق اہم معلومات روکنے کا الزام بھی لگایا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے معاہدے کے تحت ماضی میں بھارتی منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے تقریباً 115 معائنے کیے تھے۔

پانی پاکستان کی زراعت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زرعی زمین کے لیے پانی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے پانی کی فراہمی میں کوئی بھی کمی پاکستان کی خوراک کی سلامتی اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ بھارتی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کے ایک بیان کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان تک پہنچنے سے جون 2028 تک مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے، جس پر پاکستان میں تشویش پائی جاتی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

سندھ طاس معاہدے کا مستقبل اب کئی عوامل پر منحصر ہے۔ ایک طرف غیر جانبدار ماہر کا حتمی فیصلہ جولائی 2027 میں متوقع ہے، جو کشن گنگا اور رتلے منصوبوں کے ڈیزائن کے بارے میں ہوگا۔ دوسری طرف، پاکستان معاہدے کے معاملے پر اپنے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں سفارتی اور قانونی راستے بھی شامل ہیں۔ خواجہ آصف کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے پر مزید انتظار کرنے کے بجائے اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کی صورتحال بھی اس دوران توجہ کا مرکز رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، لیکن علاقائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار بھی صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں۔

دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے پانی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ پورے خطے کے لیے تشویشناک ہے۔ عالمی برادری کی کوشش یہی رہی ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اس تنازع کو حل کریں۔ عالمی بینک، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، اس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جنوری 2025 میں بھارت نے تصدیق کی تھی کہ معاہدے کے آرٹیکل بارہ کی شق تین کے تحت ترمیم اور نظرثانی پر پاکستان سے رابطہ جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے۔ آئندہ چند ماہ میں یہ واضح ہوگا کہ پاکستان اپنے کون سے آپشنز پر عمل کرتا ہے اور کیا دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں۔

ٹیگز:سندھ طاس معاہدہخواجہ آصفانڈس واٹر ٹریٹیہیگ ثالثی عدالتپاکستان بھارت پانیIndus Waters TreatyKhawaja AsifCourt of Arbitration
← تمام خبریں دیکھیں