
عالمی منڈیوں میں بڑی گراوٹ: نیسڈیک 5.5 فیصد گر گیا، بینک آف انگلینڈ نے شرح سود بڑھا دی
امریکی مارکیٹ میں ایک روز میں اربوں ڈالر ڈوب گئے — ڈاؤ 3.44 اور ایس اینڈ پی 4.36 فیصد گر گئے، کوریا کی مارکیٹ بھی 5.28 فیصد نیچے۔
اہم نکات
- ڈاؤ جونز 3.44 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.36 فیصد اور نیسڈیک میں 5.52 فیصد کمی
- نیسڈیک اصلاحی مرحلے میں داخل، اپنے ریکارڈ سے 11.9 فیصد نیچے
- چپ ساز کمپنیوں کا انڈیکس 12.25 فیصد گر گیا، مارچ 2020 کے بعد سب سے بڑی گراوٹ
- بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 0.25 فیصد بڑھا کر 4 فیصد کر دی
- کوریا کی مارکیٹ 5.28 فیصد گری، اگلے روز 8 فیصد سے زائد گراوٹ پر تجارت روک دی گئی
نیویارک: جمعرات کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 1,833.06 پوائنٹس یعنی 3.44 فیصد گر کر 51,523.06 پر بند ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 334.89 پوائنٹس یعنی 4.36 فیصد کمی کے ساتھ 7,353.73 پر بند ہوا، جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 1,421.52 پوائنٹس یعنی 5.52 فیصد گر کر 24,315.00 پر بند ہوا۔ یہ امریکی مارکیٹ کا اپریل 2025 کے بعد سے بدترین روز تھا۔ اس گراوٹ نے انتخابات کے بعد آنے والی تیزی کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
یہ گراوٹ اس لیے بھی حیران کن تھی کہ اس سے ایک روز قبل، یعنی بدھ کو، مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی تھی۔ بدھ کو ڈاؤ جونز 1,569.40 پوائنٹس بڑھا تھا اور سرمایہ کاروں نے امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کا خیرمقدم کیا تھا۔ لیکن جمعرات کو سرمایہ کاروں نے نتائج پر دوبارہ غور کیا اور ان کی توجہ ان خدشات پر مرکوز ہو گئی جو نئی کانگریس کی پالیسیوں سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک ہی روز میں بدھ کی پوری تیزی ختم ہو گئی اور مارکیٹ اس سے بھی نیچے چلی گئی۔
نیسڈیک کی گراوٹ نے اسے اصلاحی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اصلاحی مرحلہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی انڈیکس اپنے حالیہ ریکارڈ سے 10 فیصد یا اس سے زیادہ نیچے چلا جائے۔ نیسڈیک اب 6 اکتوبر کے اپنے ریکارڈ 27,599.89 سے 11.9 فیصد نیچے ہے۔ نیسڈیک 100 انڈیکس تو 6.36 فیصد گر کر 26,629.81 پر بند ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس ایک روز کی گراوٹ میں سرمایہ کاروں کے دو کھرب ڈالر سے زائد ڈوب گئے۔
وال اسٹریٹ میں کیا ہوا
جمعرات کی گراوٹ کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ اس میں مارکیٹ کا کوئی بھی شعبہ محفوظ نہیں رہا۔ ایس اینڈ پی 500 کے تمام 11 شعبے گرے، لیکن سب سے زیادہ نقصان ٹیکنالوجی اور چپ ساز کمپنیوں کو ہوا۔ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے متعلق اسٹاکس میں سب سے زیادہ فروخت ہوئی۔ انویڈیا ڈاؤ جونز میں سب سے زیادہ نقصان کا باعث بنی، جبکہ اے ایم ڈی کے حصص میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔ سرمایہ کاروں کے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وِکس انڈیکس، جسے مارکیٹ کے خوف کا پیمانہ کہا جاتا ہے، 69 فیصد بڑھ کر 28.09 تک پہنچ گیا۔
چپ ساز کمپنیوں کا انڈیکس، جسے فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس کہا جاتا ہے، ایک ہی روز میں 12.25 فیصد گر گیا۔ یہ مارچ 2020 کے بعد سے اس انڈیکس کی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ ہے، جب کورونا وبا کے دوران مارکیٹ میں شدید مندی آئی تھی۔ اس گراوٹ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ سرمایہ کار اب اے آئی کے شعبے میں ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کے بارے میں شکوک کا شکار ہو گئے ہیں۔
کچھ کمپنیوں کے انفرادی نتائج نے بھی گراوٹ کو تیز کیا۔ کوالکوم کے حصص تقریباً 10 فیصد گر گئے، کیونکہ اس کے ہینڈ سیٹ چپ کی آمدنی میں سالانہ بنیاد پر 26 فیصد کمی ہوئی اور یہ 5.14 ارب ڈالر رہی، جو توقعات سے کم تھی۔ مائیکرون ٹیکنالوجی کے حصص 17.46 فیصد گر گئے، کیونکہ کمپنی نے تائیوان میں اپنے 4.5 ارب ڈالر کے پلانٹ کا کام روک دیا تھا۔ ان خبروں نے سرمایہ کاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رفتار اب کم ہو جائے گی۔
اے آئی اور چپ اسٹاکس کیوں گرے
گراوٹ کی بنیادی وجہ ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے نئی پابندیوں کا خدشہ تھا۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی ہے، اور سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نئی کانگریس ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندیاں لگا سکتی ہے، جس سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سست ہو جائے گی۔ ووٹروں نے کئی ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز کے خلاف اور شہریوں کے تحفظ کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس سے یہ خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایک اور وجہ اوریکل کمپنی کا 20 ارب ڈالر جمع کرنے کا منصوبہ تھا۔ اوریکل نے اعلان کیا تھا کہ وہ 10 ارب ڈالر حصص کی فروخت اور 10 ارب ڈالر بانڈز کے ذریعے جمع کرے گی تاکہ اپنی کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی صلاحیت بڑھا سکے۔ اس اعلان سے سرمایہ کاروں کو یہ شک ہوا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اے آئی کی تعمیر جاری رکھنے کے لیے بیرونی فنڈنگ کی ضرورت پڑ رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کی آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی جس کی توقع تھی۔ اوریکل کے حصص میں 8.8 فیصد کمی ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اے آئی کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کا منافع توقع سے کم ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دو سال میں اے آئی اسٹاکس میں غیر معمولی تیزی آئی تھی اور کئی کمپنیوں کی قیمتیں ان کی آمدنی کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ جمعرات کی گراوٹ کو اس تیزی کی اصلاح کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس میں سرمایہ کاروں نے مہنگے اسٹاکس بیچ کر منافع محفوظ کرنے کی کوشش کی۔
بینک آف انگلینڈ کا فیصلہ
اسی روز لندن میں بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کر کے اسے 4 فیصد کر دیا۔ یہ بینک آف انگلینڈ کی اگست 2023 کے بعد سے پہلی شرح سود میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل شرح سود 3.75 فیصد تھی۔ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یہ فیصلہ 8 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے کیا۔ واحد مخالف رکن کیتھرین مین تھیں، جنہوں نے 0.50 فیصد اضافے کی حمایت کی تھی، یعنی وہ شرح سود کو 4.25 فیصد کرنا چاہتی تھیں۔
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور اسی لیے شرح سود بڑھانا ضروری تھا۔ بینک کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں مہنگائی، جو اس وقت 3.5 فیصد ہے، 2027 کے وسط تک تقریباً 5 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ بینک نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع جاری رہا تو شرح سود میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
شرح سود میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، جس سے گھروں کے قرضے، کاروباری قرضے اور کریڈٹ کارڈ کی شرحیں متاثر ہوں گی۔ دوسری جانب بچت کرنے والوں کو اپنی جمع پونجی پر زیادہ منافع ملے گا۔ بینک آف انگلینڈ کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر کی مارکیٹیں گر رہی ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
کوریا کی مارکیٹ میں ہلچل
امریکی گراوٹ کا اثر ایشیا کی مارکیٹوں پر بھی پڑا۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ جمعرات کو 5.28 فیصد گر گئی تھی، جبکہ سیمسنگ اور ایس کے ہائنکس کے حصص میں 7 سے 9 فیصد تک کمی ہوئی تھی۔ لیکن اصل دھچکا جمعہ کو لگا، جب کوریا کی مارکیٹ کھلتے ہی شدید گراوٹ کا شکار ہو گئی۔ کوسپی انڈیکس چند منٹوں میں 8.52 فیصد گر کر 4,924.61 تک پہنچ گیا، جس کے بعد کوریا ایکسچینج کو پہلی سطح کا سرکٹ بریکر لگانا پڑا اور تجارت 20 منٹ کے لیے روک دی گئی۔
سرکٹ بریکر کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر انڈیکس میں 8 فیصد یا اس سے زیادہ کی کمی ایک منٹ تک برقرار رہے تو تجارت خودکار طور پر 20 منٹ کے لیے معطل کر دی جاتی ہے۔ جمعہ کو صبح 9 بج کر 3 منٹ پر یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ سامسنگ اور ایس کے ہائنکس کے حصص ابتدا میں 10 فیصد اور 13 فیصد تک گر گئے تھے، لیکن بعد میں کچھ بہتری آئی۔ صبح 11 بج کر 28 منٹ تک کوسپی 5,144.31 پر آ گیا تھا، لیکن پھر بھی 4.45 فیصد نیچے تھا۔ سامسنگ کی کمی 3.67 فیصد اور ایس کے ہائنکس کی کمی 6.17 فیصد تک محدود ہو گئی تھی۔
کوریا کی مارکیٹ میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت تھی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اکتوبر میں کوسپی میں 18.67 کھرب وون کی فروخت کی تھی اور نومبر کے پہلے چار کاروباری روز میں مزید 7.77 کھرب وون کے حصص بیچے تھے۔ جمعہ کی صبح 9 بج کر 50 منٹ تک غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت 302 ارب وون تک پہنچ چکی تھی، جبکہ مقامی ادارے اور افراد خریداری کر رہے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کوریا کی چپ ساز کمپنیوں کے مالی نتائج ریکارڈ توڑ رہے تھے۔ ایس کے ہائنکس نے بتایا تھا کہ تیسری سہ ماہی میں اس کی آمدنی 104.6 کھرب وون اور آپریٹنگ منافع 83.3 کھرب وون رہا، جو ایک سال میں 632 فیصد زیادہ تھا اور منافع کا مارجن 80 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ سامسنگ الیکٹرانکس نے بھی تیسری سہ ماہی میں 107.4 کھرب وون کا ریکارڈ آپریٹنگ منافع حاصل کیا تھا۔ اس کے باوجود ان کمپنیوں کے حصص گر رہے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے، نہ کہ ماضی کے نتائج کے بارے میں۔
کوریا کی مارکیٹ میں چپ ساز کمپنیوں کا وزن بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں سامسنگ اور ایس کے ہائنکس کا کوسپی کی مجموعی مارکیٹ قیمت میں حصہ تقریباً 34 فیصد تھا، لیکن 4 نومبر تک یہ بڑھ کر 49 فیصد ہو گیا تھا، یعنی تقریباً نصف مارکیٹ صرف دو کمپنیوں پر منحصر تھی۔ جب یہ دونوں کمپنیاں گرتی ہیں تو پورا انڈیکس گر جاتا ہے۔ کوسڈیک انڈیکس بھی 4 فیصد گر کر 686.34 پر بند ہوا تھا۔
تیل، سونا اور بانڈز
تیل کی قیمتوں میں بھی بہتری آئی۔ برینٹ خام تیل 98 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔ جنوری کی ڈیلیوری کے لیے برینٹ 98.29 ڈالر پر بند ہوا۔ تیل کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی تھی، جہاں ٹینکروں پر حملوں کی خبروں کے بعد برینٹ کی قیمت میں 3.67 ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں بے یقینی برقرار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔
سونے کی قیمت 4,100 ڈالر فی اونس سے اوپر چلی گئی، جو دو روز میں 5 فیصد اضافہ تھا۔ سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کی گراوٹ کے دوران سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر خریدا۔ دوسری جانب بٹ کوائن 5.4 فیصد گر کر 76,041 ڈالر تک پہنچ گیا۔ بانڈ مارکیٹ میں 10 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار تقریباً 6 بیسز پوائنٹس گر کر 4.84 فیصد ہو گئی، جبکہ دو سالہ پیداوار 11 بیسز پوائنٹس گر کر 4.47 فیصد ہو گئی۔
فیڈ اور اگلے اشارے
امریکی فیڈرل ریزرو کے حوالے سے بھی توقعات بدل گئیں۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق دسمبر میں فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا امکان 82.7 فیصد سے کم ہو کر 70.1 فیصد رہ گیا۔ تاجروں کو توقع ہے کہ فیڈ ستمبر میں کیے گئے اضافے کے بعد اگلے ماہ دوبارہ شرح سود بڑھا سکتا ہے۔ جمعہ کو امریکہ کی ملازمتوں کی رپورٹ جاری ہوگی، جو مارکیٹ کے لیے اگلا اہم اشارہ ہوگی۔
امریکہ کے معاشی اعداد بھی ملے جلے رہے۔ ابتدائی بے روزگاری کے دعوے 189,000 رہے، جو 57 سال کی کم ترین سطح ہے اور توقع سے 6,000 کم تھے۔ جاری دعوے 17 لاکھ 18 ہزار رہے۔ تیسری سہ ماہی میں کارکنوں کی پیداواری صلاحیت میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں، لیکن مارکیٹ کی توجہ اس وقت اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خدشات پر مرکوز ہے۔
پاکستان کی مارکیٹ نے اس عالمی گراوٹ کے برعکس کارکردگی دکھائی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 175,379 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی مارکیٹ کے محرکات عالمی مارکیٹ سے مختلف تھے، کیونکہ پاکستان میں سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی امیدوں اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے خوش تھے۔ تاہم اگر عالمی گراوٹ جاری رہی تو اس کا اثر پاکستان سمیت دنیا بھر کی مارکیٹوں پر پڑ سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ کی ملازمتوں کی رپورٹ، فیڈ کے اگلے فیصلے اور بینک آف انگلینڈ کی آئندہ پالیسی پر ہوں گی۔ اگر اے آئی کے شعبے کے بارے میں خدشات کم نہ ہوئے تو مارکیٹ میں مزید گراوٹ آ سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے واضح پالیسی سامنے آئی تو مارکیٹ کو سہارا مل سکتا ہے۔
