تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← کھیل ← سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش
سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش
کھیل

سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش

فونٹ سائز:

پہلا ٹیسٹ 9 نومبر سے راولپنڈی میں — ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے تیز وکٹیں تیار کرنے کی ہدایت کر دی، نئی اوپننگ جوڑی میدان میں اترنے کا امکان۔

اہم نکات

  • پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر راولپنڈی، دوسرا 17 سے 21 نومبر لاہور میں
  • بابر اعظم کپتان، تین نئے کھلاڑیوں کو پہلی بار ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ ملی
  • پاکستان 2026 میں سات میں سے چھ ٹیسٹ ہار چکا ہے
  • آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان دس ٹیموں میں نواں نمبر پر ہے
  • ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے دونوں میچوں کے لیے تیز وکٹیں تیار کرنے کی ہدایت کی
  • سری لنکا کے اوپنر پاتھم نسانکا انجری کے باعث سیریز سے باہر

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 9 نومبر سے راولپنڈی میں شروع ہو رہی ہے۔ دوسرا ٹیسٹ 17 نومبر سے لاہور میں کھیلا جائے گا۔ یہ پاکستان کا رواں سال کا پہلا ہوم ٹیسٹ ہوگا، حالانکہ ٹیم بیرون ملک تین سیریز میں سات ٹیسٹ کھیل چکی ہے۔ دونوں میچ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہیں، اس لیے ان کی اہمیت صرف سیریز جیتنے تک محدود نہیں، بلکہ عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی پوزیشن کے لیے بھی اہم ہے۔ پاکستان اس وقت چیمپئن شپ میں آخری نمبر پر ہے، اور اس سیریز میں اچھی کارکردگی اس کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہے۔

سیریز سے پہلے سری لنکا کی ٹیم نے اسلام آباد کلب میں 4 سے 6 نومبر تک پی سی بی پیٹرنز الیون کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ کھیلا۔ اس میچ میں پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ کے سات کھلاڑی بھی پیٹرنز الیون کا حصہ تھے، اور اس کے بعد دو فاسٹ بولرز کو پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا جانا ہے۔ وارم اپ میچ کا مقصد مہمان ٹیم کو پاکستانی حالات سے ہم آہنگ کرنا اور میزبان ٹیم کے نئے کھلاڑیوں کو میچ کی مشق دینا تھا۔

سیریز کا شیڈول اور اہمیت

پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، اور دوسرا ٹیسٹ 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق ہر روز کھیل پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے شروع ہوگا۔ یہ سیریز سری لنکا کے پاکستان کے دورے کا آخری حصہ ہے، جس میں اس سے پہلے تین ملکی ون ڈے سیریز بھی کھیلی گئی تھی۔ پاکستان نے اس تین ملکی سیریز کے فائنل میں سری لنکا کو تین وکٹوں سے ہرا کر ٹائٹل جیتا تھا، اس لیے میزبان ٹیم اس کامیابی کے اعتماد کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں اتر رہی ہے۔

ٹکٹوں کے حوالے سے پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹی سی ایس ایکسپریس سینٹرز سے دستیاب ہیں، اور ان کی قیمت 200 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ شائقین کے لیے یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ گھر میں ٹیسٹ کرکٹ دیکھنے کا موقع رواں سال پہلی بار مل رہا ہے۔ راولپنڈی اور لاہور دونوں ہی ایسے میدان ہیں جہاں پاکستانی شائقین بڑی تعداد میں آتے ہیں، اور بورڈ کو امید ہے کہ اسٹیڈیم میں اچھی حاضری ہوگی۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں یہ سیریز پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ پاکستان اس وقت چیمپئن شپ میں نویں اور آخری نمبر پر ہے، اس کے پوائنٹس کی شرح صرف 4.63 فیصد ہے۔ نیوزی لینڈ 72.22 فیصد کے ساتھ پہلے، جنوبی افریقہ 71.43 فیصد کے ساتھ دوسرے اور آسٹریلیا 69.23 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ چیمپئن شپ کا فائنل جون 2027 میں لندن کے اوول میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے لیے فائنل میں پہنچنا اب عملی طور پر ممکن نہیں، لیکن سری لنکا کے خلاف کامیابی اس کی درجہ بندی کو بہتر کر سکتی ہے اور ٹیم کے اعتماد کو بحال کر سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ٹیسٹ جیتنے کے باوجود پاکستان نویں نمبر سے اوپر نہیں جا سکے گا، لیکن یہ سیریز اس کی بحالی کی شروعات ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی مشکل صورتحال: 2026 کا مایوس کن سال

رواں سال پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ٹیم سات میں سے چھ ٹیسٹ ہار چکی ہے اور آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں دس ٹیموں میں نویں نمبر پر ہے، اس سے نیچے صرف زمبابوے ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم رینکنگ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی سب سے کم رینکنگ آٹھویں تھی، جو ستمبر 2024 میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہوم سیریز میں شکست کے بعد ملی تھی۔ اب ٹیم اس سے بھی نیچے چلی گئی ہے، اور اس کی ریٹنگ 71 پوائنٹس تک گر گئی ہے۔

سال کی شروعات بنگلہ دیش کے دورے سے ہوئی، جہاں پاکستان دونوں ٹیسٹ ہار گیا۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز ایک ایک سے برابر رہی، جس میں پاکستان کی واحد جیت اسی سیریز میں آئی۔ سب سے زیادہ مایوس کن کارکردگی انگلینڈ کے دورے میں رہی، جہاں پاکستان کو تین صفر سے شکست ہوئی۔ ہیڈنگلے میں انگلینڈ نے ایک اننگز اور 103 رنز سے جیتا، لارڈز میں 194 رنز سے شکست دی، اور ایجبسٹن میں 130 رنز کا ہدف آسانی سے پورا کر کے آٹھ وکٹوں سے میچ جیت لیا۔ ان نتائج نے پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی آخری نمبر پر پہنچا دیا۔

چیمپئن شپ کے موجودہ چکر میں پاکستان نے نو ٹیسٹ کھیلے ہیں، جن میں سے صرف دو جیتے ہیں، اور اس کے پاس صرف پانچ پوائنٹس ہیں، حالانکہ ممکنہ پوائنٹس 108 تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سلو اوور ریٹ پر لگنے والی سزائیں بھی ہیں، جن میں 19 پوائنٹس کاٹے گئے، جن میں ایجبسٹن ٹیسٹ کے 11 پوائنٹس بھی شامل ہیں۔ اس چکر میں پاکستان کے سب سے زیادہ رنز شان مسعود نے بنائے ہیں، 546 رنز، جبکہ سب سے زیادہ وکٹیں محمد عباس نے لیں، 41 وکٹیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹیم کو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔

نئی ٹیم، نئے چہرے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 24 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے 14 رکنی ابتدائی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا۔ بابر اعظم کو ٹیم کا کپتان بنایا گیا ہے۔ اسکواڈ میں تین نئے بیٹرز کو پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں جگہ ملی ہے: سمیر منہاس، محمد طحہ اور محمد سلیمان۔ سابق کپتان شان مسعود اسکواڈ میں شامل نہیں ہیں، اور نہ ہی محمد رضوان اور امام الحق کو جگہ ملی ہے۔ یہ انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ ٹیم انتظامیہ نئے سرے سے ٹیم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

مکمل اسکواڈ میں بابر اعظم کے ساتھ عبداللہ فضل، اذان اویس، علی عثمان، عرفات منہاس، محمد عباس، محمد غازی غوری، محمد سلیمان، محمد طحہ، رضا اللہ، سعد بیگ، سلمان علی آغا، سمیر منہاس اور سعود شکیل شامل ہیں۔ محمد غازی غوری اور سعد بیگ وکٹ کیپر کے طور پر اسکواڈ میں ہیں۔ وارم اپ میچ کے بعد دو فاسٹ بولرز کو مزید شامل کیا جائے گا، جن کے امیدوار محمد سلمان، شعیب اختر جونیئر، علی شبیر، ثاقب خان اور عبید شاہ ہیں۔ اس طرح اسکواڈ 16 کھلاڑیوں پر مشتمل ہو جائے گا۔

سیریز میں نئی اوپننگ جوڑی میدان میں اترنے کا امکان ہے۔ اذان اویس اور عبداللہ فضل اوپننگ کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ دونوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے، اور ان کی موجودگی سے ٹیم کی اوپننگ کی دیرینہ کمزوری دور ہونے کی امید ہے۔ بابر اعظم کو ہیڈ کوچ کی ہدایت پر ڈومیسٹک چار روزہ میچ کھیل کر فارم بحال کرنے کا موقع دیا گیا ہے، اور وہ قائداعظم ٹرافی میں لاہور وائٹس کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔ محمد عباس اور رضا اللہ کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جس سے بولنگ اٹیک کو تجربہ اور تنوع ملے گا۔

تیز وکٹوں کی حکمت عملی

ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے گراؤنڈ اسٹاف کو دونوں میچوں کے لیے تیز اور باؤنس والی وکٹیں تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پاکستانی فاسٹ بولرز کو فائدہ ہو۔ یہ رپورٹ 4 نومبر کو سامنے آئی تھی، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ اس سیریز کے لیے واضح منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں سپن وکٹوں پر انحصار کیا ہے، لیکن اس بار حکمت عملی مختلف ہے: تیز وکٹوں پر پاکستانی فاسٹ بولرز سری لنکا کے بیٹرز کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

یہ حکمت عملی ایک جوا بھی ہے، کیونکہ اگر وکٹیں تیز ہوئیں تو سری لنکا کے فاسٹ بولرز کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، اور پاکستان کی اپنی بیٹنگ بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔ لیکن ٹیم انتظامیہ کا خیال ہے کہ گھر کی حالات میں فاسٹ بولنگ پاکستان کی مضبوطی ہے، اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ راولپنڈی کی وکٹ عام طور پر فاسٹ بولرز کی مدد کرتی ہے، جبکہ قذافی اسٹیڈیم کی وکٹ بھی تیز اور باؤنس والی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاکستان کو دونوں میچوں میں برتری مل سکتی ہے۔

مائیک ہیسن عبوری ٹیسٹ ہیڈ کوچ کے طور پر کام کر رہے ہیں، اور یہ سیریز ان کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ ٹیم کی حالیہ کارکردگی کے بعد کوچنگ اسٹاف پر دباؤ ہے، اور سری لنکا کے خلاف کامیابی ان کے منصوبے کی توثیق ہوگی۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے تین ملکی ون ڈے سیریز جیتی ہے، جو ایک مثبت علامت ہے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ ایک مختلف چیلنج ہے، جہاں صبر اور مستقل مزاجی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

سری لنکا کی ٹیم: کپتان، ستارے اور ایک بڑی کمی

سری لنکا کی قیادت کوسل مینڈس کر رہے ہیں۔ ان کی ٹیم میں دنیش چندی مل، کمنڈو مینڈس، دھننجے ڈی سلوا، پرابات جے سوریا، لہیرو کمارا، اسیتھا فرنینڈو اور دلشان مدوشنکا جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں۔ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی بھی اچھی تعداد ہے، جن میں سونل دنوشا، کشارا نوانتھا، ملن رتھنائیکے اور پسندو سوریا بندرا شامل ہیں۔ ایشاں ملنگا فٹنس کلیئرنس سے مشروط ہیں۔

سری لنکا کے لیے سب سے بڑا دھچکا ان کے اوپنر پاتھم نسانکا کی عدم دستیابی ہے۔ نسانکا بائیں ٹانگ کی ہیمسٹرنگ انجری سے مکمل صحت یاب نہیں ہو سکے، اور سری لنکا کرکٹ نے 27 اکتوبر کو انہیں سیریز سے باہر کر دیا۔ ان کی جگہ لہیرو اڈارا کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے ون ڈے سیریز میں بھی نسانکا کی جگہ لی تھی۔ اوپنر کی غیر موجودگی سری لنکا کی بیٹنگ کے لیے ایک کمزوری ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیز وکٹوں پر۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں سری لنکا ساتویں نمبر پر ہے، اس کی پوائنٹس شرح 33.33 فیصد ہے۔ اس نے اس چکر میں چھ ٹیسٹ کھیلے ہیں، جن میں سے ایک جیتا ہے۔ سری لنکا کے لیے بھی یہ سیریز اہم ہے، کیونکہ اچھی کارکردگی اسے درجہ بندی میں اوپر لے جا سکتی ہے۔ سری لنکا کی ٹیم 2019 کے بعد پہلی بار پاکستان میں ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے۔ اس وقت پاکستان نے سیریز ایک صفر سے جیتی تھی، راولپنڈی ٹیسٹ ڈرا ہوا تھا اور کراچی ٹیسٹ پاکستان نے 263 رنز سے جیتا تھا۔

ماضی کا ریکارڈ: پاکستان کو برتری حاصل ہے

دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ پاکستان کے حق میں ہے۔ دونوں نے اب تک 59 ٹیسٹ کھیلے ہیں، جن میں پاکستان نے 23 جیتے، سری لنکا نے 17 جیتے، اور 19 میچ ڈرا ہوئے۔ دونوں کا پہلا ٹیسٹ 1982 میں کراچی میں کھیلا گیا تھا، جسے پاکستان نے 204 رنز سے جیتا تھا۔ اس کے بعد سے یہ مقابلہ باقاعدہ ہوتا رہا ہے، خاص طور پر 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں دونوں ٹیموں کے درمیان کئی یادگار سیریز ہوئیں۔

سب سے حالیہ ٹیسٹ سیریز 2023 میں سری لنکا میں کھیلی گئی تھی، جہاں پاکستان نے دونوں میچ جیت کر سیریز دو صفر سے جیتی تھی۔ گال میں پاکستان نے چار وکٹوں سے جیتا تھا، جہاں سعود شکیل نے ڈبل سنچری بنائی تھی، اور کولمبو میں پاکستان نے ایک اننگز اور 222 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے پہلے 2017 میں سری لنکا نے متحدہ عرب امارات میں، جو اس وقت پاکستان کا ہوم گراؤنڈ تھا، سیریز دو صفر سے جیتی تھی۔ اس طرح سری لنکا کے پاس بھی پاکستان کو ہرانے کی صلاحیت ثابت شدہ ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے یادگار میچوں میں سے ایک 2009 میں کراچی میں کھیلا گیا تھا، جہاں سری لنکا نے 644 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کی تھی، اور پاکستان نے جواب میں 765 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کی تھی۔ اس میچ میں یونس خان نے 313 رنز بنائے تھے، جو پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے انفرادی اسکورز میں سے ایک ہے۔ پاکستان کا 765 رنز سری لنکا کے خلاف اس کا سب سے بڑا ٹیم اسکور ہے۔ یہ میچ ڈرا ہوا تھا، لیکن اس نے دونوں ٹیموں کی بیٹنگ کی صلاحیت کو ظاہر کیا تھا۔

پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں بھی برتری حاصل کی ہے، ون ڈے میں 96 مقابلے میں 59 اور ٹی ٹوئنٹی میں 18 مقابلے میں 12 جیتے ہیں۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں مقابلہ ہمیشہ قریبی رہا ہے، اور کئی میچ ڈرا ہوئے ہیں۔ اس سیریز میں بھی دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے، خاص طور پر اس لیے کہ دونوں ٹیمیں اپنی درجہ بندی بہتر کرنے کے لیے کھیل رہی ہیں۔

سیریز سے کیا توقع رکھی جائے

پاکستان کے لیے یہ سیریز صرف جیتنے کا سوال نہیں، بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بحالی کا آغاز ہے۔ ٹیم نے سال بھر میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے، اور شائقین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اسے گھر میں اچھی کرکٹ کھیلنی ہوگی۔ نئی اوپننگ جوڑی، نئے کھلاڑیوں اور تیز وکٹوں کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو پاکستان نہ صرف سیریز جیت سکتا ہے، بلکہ آنے والے نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے بھی اعتماد حاصل کر سکتا ہے۔

سری لنکا کے لیے بھی یہ سیریز ایک موقع ہے۔ وہ پاکستان میں ٹیسٹ جیت کر اپنی درجہ بندی بہتر کر سکتا ہے، اور اس کے نوجوان کھلاڑیوں کو پاکستانی حالات میں کھیلنے کا تجربہ ملے گا۔ کوسل مینڈس کی قیادت میں ٹیم نے ون ڈے سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلی تھی، اور وہ ٹیسٹ میں بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دونوں ٹیموں کے لیے یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے کا موقع ہے۔

شائقین کے لیے یہ سیریز خاص ہے، کیونکہ رواں سال پہلی بار گھر میں ٹیسٹ کرکٹ ہو رہی ہے۔ راولپنڈی اور لاہور کے میدانوں میں اچھی حاضری کی توقع ہے، اور ٹکٹوں کی کم قیمت سے عام شائقین بھی میچ دیکھ سکیں گے۔ اگر موسم ساتھ دے اور وکٹیں اچھی ہوں تو دونوں میچ دلچسپ مقابلے ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کو اس وقت ایک اچھی سیریز کی سخت ضرورت ہے، اور سری لنکا کے خلاف یہ سیریز اس کا بہترین موقع ہے۔ اسی دوران پاکستانی کھلاڑیوں کے ابوظہبی ٹی ٹین لیگ سے محرومی کا تنازع بھی جاری ہے، جو بورڈ کی پالیسی پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

ٹیگز:پاکستان سری لنکا ٹیسٹ سیریزبابر اعظممائیک ہیسنراولپنڈی ٹیسٹقذافی اسٹیڈیمورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپPakistan vs Sri Lanka TestWTC 2025-27
← تمام خبریں دیکھیں