
پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ
ابوظہبی ٹی ٹین لیگ 7 نومبر سے شروع ہو رہی ہے، لیکن پی سی بی کی این او سی فیس کے باعث 16 پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
اہم نکات
- پی سی بی نے ہر کھلاڑی کے این او سی کے لیے 10 ہزار ڈالر فیس طلب کر لی
- 30 ستمبر کے ڈرافٹ میں 16 پاکستانی کھلاڑی چنے گئے تھے
- یو اے ای بلز کے سب سے زیادہ 6 کھلاڑی متاثر ہوئے
- لیگ انتظامیہ نے فیس دینے سے انکار کر دیا ہے
- نیپال لیگ اور ایم ایل سی میں بھی یہی تنازع پہلے سامنے آ چکا ہے
- ٹورنامنٹ 7 سے 20 نومبر تک ابوظہبی میں کھیلا جائے گا
ابوظہبی ٹی ٹین لیگ 2026 میں 16 پاکستانی کرکٹرز کی شرکت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیگ انتظامیہ سے ہر کھلاڑی کے این او سی کے لیے 10 ہزار امریکی ڈالر فیس طلب کر لی ہے۔ ٹورنامنٹ 7 سے 20 نومبر تک ابوظہبی میں کھیلا جائے گا، اور اس کے آغاز میں اب صرف ایک روز باقی ہے، لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ لیگ انتظامیہ نے این او سی کے لیے کافی پہلے درخواست دی تھی، مگر فیس کا مطالبہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند روز قبل کیا گیا، جس کے بعد فرنچائزز متبادل کھلاڑیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر مایوس کن ہے، کیونکہ چھوٹی فرنچائز لیگز ان کی اضافی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں، اور اس لیگ سے محرومی ان کے لیے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی موجودگی دکھانے کا موقع کھونے کے برابر ہے۔
30 ستمبر کو ہونے والے ڈرافٹ میں مختلف فرنچائزز نے 16 پاکستانی کھلاڑیوں کو چنا تھا۔ ان میں نسیم شاہ، شاداب خان، محمد عامر، فخر زمان، افتخار احمد، فہیم اشرف، حسن نواز، اعظم خان اور خوش دل شاہ جیسے معروف نام شامل ہیں۔ یہ کھلاڑی پاکستان کی محدود اوورز کی کرکٹ کا اہم حصہ ہیں، اور ان میں سے کئی قومی ٹیم کے باقاعدہ رکن بھی ہیں۔ ڈرافٹ کے بعد سے کھلاڑی اور ان کے مداح یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ نومبر میں ابوظہبی میں ایکشن میں نظر آئیں گے، لیکن این او سی کی فیس کے تنازع نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق چھ میں سے پانچ ٹیموں کے پاکستانی کھلاڑی اس تنازع سے متاثر ہوئے ہیں، یعنی لیگ کی تقریباً ہر ٹیم کو اپنے منصوبے بدلنے پڑ رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ کی تفصیلات: دسواں ایڈیشن، نئی شکل
ابوظہبی ٹی ٹین لیگ کا یہ دسواں ایڈیشن ہے، اور اس بار ٹورنامنٹ کو ایک نئی شکل دی گئی ہے۔ لیگ اب ابوظہبی کرکٹ اینڈ اسپورٹس ہب کی ملکیت اور انتظام میں ہے، جسے ابوظہبی اسپورٹس کونسل اور ایمریٹس کرکٹ بورڈ کی حمایت حاصل ہے۔ اس ایڈیشن میں چھ فرنچائزز حصہ لے رہی ہیں: یو اے ای بلز، یاس لائنز، رائل ڈیزرٹ چیمپئنز، ایمریٹس ایگلز، یونائیٹڈ ٹائیگرز اور عربین ایسیز۔ تمام 32 میچز ابوظہبی کے زید کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ لیگ مرحلے میں 30 میچ ہوں گے، ہر ٹیم دوسری ہر ٹیم سے دو بار کھیلے گی، اور اس کے بعد کوالیفائر اور فائنل 20 نومبر کو کھیلے جائیں گے۔ 12 نومبر کو آرام کا دن رکھا گیا ہے۔
ٹی ٹین کرکٹ کھیل کا سب سے تیز فارمیٹ ہے۔ ہر ٹیم کو صرف دس اوورز کھیلنے کو ملتے ہیں، ایک میچ تقریباً 90 منٹ میں ختم ہو جاتا ہے، کوئی بولر دو سے زیادہ اوورز نہیں کر سکتا، اور پاور پلے صرف تین اوورز کا ہوتا ہے۔ یہ فارمیٹ 2017 میں متحدہ عرب امارات میں شروع ہوا تھا، پہلے دو سیزن شارجہ میں کھیلے گئے اور 2019 سے ٹورنامنٹ مستقل طور پر ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے 2018 میں اس لیگ کو باقاعدہ منظوری دی تھی۔ پہلے ایڈیشن میں کیرالہ کنگز نے پنجابی لیجنڈز کو ہرا کر ٹائٹل جیتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس لیگ کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا، اور 2021-22 کے ایڈیشن کو ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقریباً 34 کروڑ 20 لاکھ افراد نے دیکھا، جبکہ 2017 میں یہ تعداد صرف 3 کروڑ 70 لاکھ تھی۔
اس سال کی دفاعی چیمپئن ٹیم یو اے ای بلز ہے، جس کی قیادت ویسٹ انڈیز کے معروف آل راؤنڈر کیرون پولارڈ کر رہے ہیں۔ ٹیم میں سنیل نارائن اور روماریو شیفرڈ جیسے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ افتتاحی میچ 7 نومبر کو یو اے ای بلز اور جیسن ہولڈر کی قیادت والی یاس لائنز کے درمیان کھیلا جائے گا۔ اسی روز دو مزید میچ ہوں گے، یعنی تمام چھ ٹیمیں پہلے ہی روز میدان میں اتریں گی۔ 19 نومبر کو بھی تین میچ کھیلے جائیں گے، جن سے فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اس روز یو اے ای بلز کا مقابلہ عربین ایسیز سے ہوگا، جس میں پولارڈ اور رسل جیسے طاقتور ہٹر آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔
این او سی کا تنازع کیسے شروع ہوا
رپورٹس کے مطابق ابوظہبی ٹی ٹین کی انتظامیہ نے 30 ستمبر کے ڈرافٹ کے فوراً بعد این او سی کے لیے درخواست دی تھی۔ کئی ہفتوں تک اس معاملے پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، اور پھر ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند روز قبل پی سی بی نے فی کھلاڑی 10 ہزار ڈالر کا مطالبہ کر دیا۔ جیو سپر کی رپورٹ کے مطابق لیگ نے یہ فیس دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پی سی بی نے ابھی تک اس معاملے پر عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے، اس لیے بورڈ کے مؤقف کی سرکاری تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔
سب سے زیادہ متاثر ٹیم یو اے ای بلز ہے، جس کے چھ پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت خطرے میں ہے: شاداب خان، محمد عامر، خواجہ نافع، خوش دل شاہ، اعظم خان اور محمد وسیم جونیئر۔ دفاعی چیمپئن ٹیم کے لیے اپنے چھ کھلاڑیوں سے محروم ہونا ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں شاداب خان اور محمد عامر جیسے تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں جو ٹی ٹین جیسے تیز فارمیٹ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دیگر ٹیموں کے پاکستانی کھلاڑی بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں، اور فرنچائزز کو اچانک متبادل کھلاڑی تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔
پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے فرنچائز لیگز کی اہمیت صرف پیسوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ لیگز انہیں دنیا بھر کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے، مختلف حالات میں اپنی مہارت آزمانے اور عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا موقع دیتی ہیں۔ خاص طور پر وہ کھلاڑی جو قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہیں بنا پا رہے، ان کے لیے یہ لیگز اپنی فارم دکھانے اور سلیکٹرز کی نظروں میں آنے کا ایک اہم راستہ ہیں۔ جب بورڈ کی فیس کی وجہ سے وہ ان لیگز سے باہر رہ جاتے ہیں تو ان کا نقصان دوگنا ہوتا ہے: مالی نقصان بھی اور کرکٹ کے میدان میں موقع کھونے کا نقصان بھی۔
نیپال پریمیئر لیگ میں بھی یہی کہانی
پی سی بی کی این او سی فیس کی پالیسی نئی نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ نیپال پریمیئر لیگ میں بھی بالکل یہی صورتحال پیش آئی تھی، جہاں بورڈ نے فی کھلاڑی 25 ہزار ڈالر طلب کیے تھے۔ نیپال لیگ کے تیسرے سیزن کے لیے تین فرنچائزز نے سات پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کیا تھا، جن میں پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان صاحبزادہ فرحان بھی شامل تھے۔ کھلاڑی نیپال پہنچ بھی چکے تھے اور پہلے میچ کھیلنے کی تیاری کر رہے تھے، لیکن آخری لمحات میں بورڈ نے این او سی روک دیے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ سات میں سے صرف دو پاکستانی کھلاڑی لیگ میں کھیل سکے: حسین طلعت اور جہانداد خان۔ کرنالی یاکس نے حسین طلعت کی فیس ادا کر کے انہیں کھلایا، جبکہ باقی کھلاڑی باہر بیٹھے رہے۔ چتوان رائنوز کو اپنے تین پاکستانی کھلاڑیوں — اسامہ میر، حسن علی اور محمد نواز — کی جگہ متبادل کھلاڑی لینے پڑے۔ جنک پور بولٹس کے افتخار احمد اور حنین شاہ کھٹمنڈو میں موجود تھے لیکن کھیل نہیں سکے۔ نیپال کرکٹ کے حکام نے اسے نیپالی کرکٹ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا، کیونکہ پاکستانی ستاروں کی موجودگی سے لیگ کا معیار اور مقبولیت دونوں بڑھتے۔
نیپال کے معاملے میں ایک اور تشویشناک پہلو یہ تھا کہ بعض کھلاڑیوں کے این او سی آخری لمحات میں واپس لیے گئے، بعض صورتوں میں تو کھلاڑی کے میدان میں اترنے سے چند منٹ پہلے۔ کھلاڑیوں نے نیک نیتی سے معاہدے کیے تھے اور فرنچائزز نے ان پر بھروسہ کر کے اپنی ٹیمیں بنائی تھیں، لیکن فیس کے مطالبے نے سب کچھ الٹ دیا۔ کٹھمنڈو پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بورڈ این او سی کے ذریعے کھلاڑیوں کی فٹنس کی حفاظت، فاسٹ بولرز کے کام کا بوجھ سنبھالنے اور بین الاقوامی سیریز سے قبل انجریز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس بار یہ دلیل فرنچائزز کو قائل نہیں کر سکی۔
میجر لیگ کرکٹ میں بھی یہی ہوا تھا
اس سے پہلے امریکہ کی میجر لیگ کرکٹ میں بھی پی سی بی نے فی کھلاڑی 25 ہزار ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ پہلی بار 2023 میں سامنے آیا تھا، اور جولائی 2026 میں لیگ کے نئے سیزن سے پہلے پھر وہی مطالبہ دہرایا گیا۔ فرنچائز مالکان کی اکثریت نے فیس دینے سے انکار کر دیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری لیگ میں صرف ایک پاکستانی کھلاڑی کھیل سکا: حارث رؤف، جو سان فرانسسکو یونی کورنز کی طرف سے کھیلے۔ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے مبینہ طور پر ایک فرنچائز کو بتایا تھا کہ یہ فیس بورڈ کا حق ہے اور آمدنی کا ذریعہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال اسی ابوظہبی ٹی ٹین لیگ کے لیے پی سی بی نے محمد عامر، اعظم خان، افتخار احمد اور عباس آفریدی سمیت کئی کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیے تھے، اور اس وقت کسی فیس کی خبر سامنے نہیں آئی تھی۔ اس لیے اس سال اچانک فیس کا مطالبہ کھلاڑیوں اور لیگ انتظامیہ دونوں کے لیے حیران کن تھا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ پی سی بی کی این او سی گائیڈ، جو 2020 سے نافذ ہے، اس میں کسی فیس کا ذکر نہیں ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ بورڈ کے اپنے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہ فیس کوئی مکمل پابندی نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگست 2026 تک تقریباً 40 پاکستانی کھلاڑیوں کو مختلف لیگز کے لیے این او سی جاری کیے جا چکے تھے۔ یعنی بورڈ کھلاڑیوں کو بیرون ملک کھیلنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن فیس کا معاملہ خاص طور پر ان لیگز میں اٹھتا ہے جہاں بورڈ کو لگتا ہے کہ فیس وصول کی جا سکتی ہے۔ کھلاڑیوں کے مرکزی معاہدے بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو چکے تھے، جس سے بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان تعلق کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دنیا بھر میں بورڈز کیا کرتے ہیں
دنیا بھر میں کرکٹ بورڈز اپنے کھلاڑیوں کو بیرون ملک لیگز میں کھیلنے کی اجازت دینے کے بدلے کچھ نہ کچھ وصول کرتے ہیں، لیکن طریقہ کار مختلف ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ 2011 سے بیرون ملک بورڈز کو ان کے کھلاڑیوں کی فیس کا تقریباً 10 فیصد ادا کرتی ہے۔ یہ رقم کھلاڑی کی فیس کے تناسب سے ہوتی ہے، اس لیے بڑے کھلاڑی کے لیے زیادہ اور چھوٹے کھلاڑی کے لیے کم ہوتی ہے، اور فرنچائزز کو یہ شرائط نیلامی سے پہلے معلوم ہوتی ہیں۔ بھارتی بورڈ اپنے فعال کھلاڑیوں کو بیرون ملک لیگز میں کھیلنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔
ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے 2016 میں اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک لیگز کے لیے این او سی دینے سے پہلے وہ کھلاڑی کے معاہدے کی رقم کا 20 فیصد وصول کرے گا۔ یہ بھی تناسب پر مبنی نظام تھا۔ اس کے مقابلے میں پی سی بی کی فیس ایک مقررہ رقم ہے: چاہے کھلاڑی بڑا ستارہ ہو یا اسکواڈ کا عام رکن، فیس ایک جیسی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیپال جیسی چھوٹی لیگ کے لیے 25 ہزار ڈالر فی کھلاڑی اس رقم کا بڑا حصہ بن جاتا ہے جو کھلاڑی کو مجموعی طور پر ملتی ہے، اس لیے فرنچائزز کے لیے یہ سودا مہنگا پڑتا ہے۔
بورڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو اپنے کھلاڑیوں کی فٹنس اور دستیابی کی حفاظت کا حق ہے، اور فیس اس کا ایک طریقہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کھلاڑی سال بھر لیگز کھیلتے رہیں تو قومی ٹیم کے لیے ان کی دستیابی اور فٹنس متاثر ہو سکتی ہے۔ لیکن ناقدین کا جواب یہ ہے کہ فٹنس کی حفاظت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں کے کھیلنے کی تعداد پر حد لگائی جائے یا ان کی فٹنس جانچی جائے، نہ کہ اچانک فیس کا مطالبہ کر کے انہیں لیگ سے باہر کر دیا جائے۔
کھلاڑیوں، لیگ اور شائقین پر اثرات
اس تنازع کا سب سے زیادہ نقصان ان کھلاڑیوں کو ہوتا ہے جو قومی ٹیم کے کنارے پر ہیں۔ بڑے ستاروں کو شاید فرنچائزز فیس دے کر بھی کھلا لیں، لیکن درمیانے درجے کے کھلاڑیوں کے لیے فرنچائزز اضافی رقم خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتیں، اور وہی کھلاڑی سب سے پہلے باہر ہوتے ہیں۔ ان کھلاڑیوں کے لیے فرنچائز لیگز کی آمدنی ان کی سالانہ کمائی کا اہم حصہ ہوتی ہے، اور ایک لیگ سے محرومی ان کے خاندان کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
لیگ کے لیے بھی یہ صورتحال نقصان دہ ہے۔ ابوظہبی ٹی ٹین نے اپنے دسویں ایڈیشن کو نئی شکل دی ہے، نئے مالکان لائے ہیں اور چھ ٹیموں کے ساتھ ایک بڑا ایونٹ تیار کیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کی غیر موجودگی سے لیگ کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر پاکستان اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی شائقین کے لیے۔ شائقین بھی مایوس ہیں، کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو نسیم شاہ کی رفتار اور شاداب خان کی لیگ اسپن کے ساتھ ایکشن میں دیکھنا چاہتے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے کوئی حل نکلتا ہے یا نہیں۔ لیگ انتظامیہ نے فیس دینے سے انکار کر دیا ہے، اور بورڈ نے ابھی تک اپنا مؤقف واضح نہیں کیا۔ اگر معاملہ اسی طرح رہا تو 7 نومبر کو جب ٹورنامنٹ شروع ہوگا، تو 16 پاکستانی کھلاڑی گھر بیٹھے ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ کے لیے یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا حل بات چیت اور واضح اصولوں سے ہی نکل سکتا ہے، تاکہ کھلاڑیوں کو بار بار اسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران قومی ٹیم کی توجہ سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز پر ہے، جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن بھی جاری ہے۔

