تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← کھیل ← قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
کھیل

قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے

فونٹ سائز:

ملک کا سب سے بڑا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ 3 نومبر سے شروع — گولڈ میں آٹھ اور سلور میں بارہ ٹیمیں، مجموعی طور پر 60 میچ کھیلے جائیں گے۔

اہم نکات

  • 69 واں ایڈیشن 3 نومبر سے اسلام آباد، ایبٹ آباد اور راولپنڈی میں شروع
  • گولڈ میں 8 ٹیمیں، سلور میں 12 ٹیمیں، مجموعی طور پر 60 فرسٹ کلاس میچ
  • دفاعی چیمپئن کراچی بلوز نے گزشتہ فائنل میں سیالکوٹ کو 218 رنز سے ہرایا تھا
  • بابر اعظم لاہور وائٹس اور شاہین آفریدی فاٹا کی قیادت کر رہے ہیں
  • سلور کی فاتح ٹیم اگلے سیزن میں گولڈ میں ترقی پائے گی
  • پشاور اور سیالکوٹ پہلی بار دو دو ٹیموں کے ساتھ میدان میں

پاکستان کے سب سے بڑے فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن 3 نومبر سے اسلام آباد، ایبٹ آباد اور راولپنڈی میں شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2 نومبر کو ٹورنامنٹ کے شیڈول اور تمام ٹیموں کے اسکواڈز کا اعلان کیا تھا۔ اس بار ٹورنامنٹ کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے: گولڈ اور سلور۔ گولڈ میں آٹھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ سلور میں بارہ ٹیمیں ہیں۔ دونوں درجوں میں مجموعی طور پر 60 فرسٹ کلاس میچ کھیلے جائیں گے۔ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی سب سے اہم اور قدیم روایت ہے، اور اسی سے قومی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔

افتتاحی راؤنڈ کی سب سے بڑی کشش ٹیسٹ کپتان بابر اعظم اور ون ڈے کپتان شاہین شاہ آفریدی کے درمیان مقابلہ ہے۔ بابر اعظم لاہور وائٹس کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ شاہین آفریدی فاٹا ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ دونوں کا مقابلہ اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں ہو رہا ہے۔ قومی ٹیم کے دو کپتانوں کا ڈومیسٹک کرکٹ میں آمنے سامنے آنا شائقین کے لیے ایک خاص موقع ہے، اور اس میچ پر سب کی نظریں ہیں۔

نیا ڈھانچہ: گولڈ اور سلور

اس سال قائداعظم ٹرافی کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ مقابلہ زیادہ متوازن اور دلچسپ ہو۔ گولڈ ٹائر میں آٹھ ٹیمیں ہیں، جن میں دفاعی چیمپئن کراچی بلوز بھی شامل ہیں۔ گولڈ کے مقابلے 3 نومبر سے 12 دسمبر تک جاری رہیں گے، اور ٹاپ دو ٹیموں کے درمیان پانچ روزہ فائنل 15 سے 19 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔ گولڈ کے فاتح کو 69 ویں ایڈیشن کا چیمپئن قرار دیا جائے گا۔ گولڈ میں کل 29 میچ کھیلے جائیں گے، اور ہر راؤنڈ میں چار میچ ہوں گے۔

سلور ٹائر میں 12 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جو آئندہ سیزن کے لیے گولڈ میں جگہ بنانے کا راستہ ہے۔ سلور کی ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں چھ ٹیمیں ہیں۔ سلور کے گروپ میچ 3 سے 30 نومبر تک کھیلے جائیں گے، اور دونوں گروپوں کی فاتح ٹیموں کے درمیان پانچ روزہ فائنل 3 سے 7 دسمبر تک ہوگا۔ سلور میں کل 31 میچ کھیلے جائیں گے۔ سلور کی فاتح ٹیم اگلے سیزن میں گولڈ میں ترقی پائے گی، اس لیے چھوٹی ٹیموں کے لیے یہ ٹورنامنٹ اوپر جانے کا اہم راستہ ہے۔

یہ نیا ڈھانچہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو زیادہ منظم بنانے کی کوشش ہے۔ پہلے ٹورنامنٹ میں تمام ٹیمیں ایک ہی سطح پر کھیلتی تھیں، جس سے مضبوط اور کمزور ٹیموں کے درمیان فرق بہت زیادہ ہو جاتا تھا۔ اب گولڈ میں صرف بہترین ٹیمیں ہیں، جبکہ سلور میں ابھرتی ہوئی ٹیمیں اپنی صلاحیت ثابت کر کے اوپر جا سکتی ہیں۔ اس نظام سے ہر میچ کی اہمیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ گولڈ میں ہر ٹیم فائنل میں پہنچنے کے لیے کھیل رہی ہے، اور سلور میں ہر ٹیم ترقی کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

گولڈ کی آٹھ ٹیمیں

گولڈ ٹائر کی آٹھ ٹیمیں یہ ہیں: دفاعی چیمپئن کراچی بلوز، فیصل آباد، فاٹا، لاہور وائٹس، اسلام آباد، پشاور بلوز، ملتان اور سیالکوٹ بلوز۔ کراچی بلوز نے گزشتہ سیزن کے فائنل میں سیالکوٹ کو 218 رنز سے ہرا کر ٹائٹل جیتا تھا، اس لیے وہ اس بار بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ لاہور وائٹس میں بابر اعظم کی موجودگی سے ٹیم کی طاقت بڑھ گئی ہے، جبکہ فاٹا کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کر رہے ہیں، جو دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں سے ایک ہیں۔

فیصل آباد، ملتان اور سیالکوٹ بلوز کی ٹیموں میں بھی کئی تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑی شامل ہیں۔ اسلام آباد کی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی، کیونکہ گولڈ کے کئی میچ اسلام آباد میں کھیلے جا رہے ہیں۔ پشاور بلوز کی ٹیم بھی مضبوط ہے، اور اس سال پشاور کی دو ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ گولڈ کے تمام میچ اسلام آباد، راولپنڈی اور ایبٹ آباد میں کھیلے جا رہے ہیں۔

گولڈ کے میچوں کی براہ راست نشریات بھی دستیاب ہیں۔ تمام گولڈ میچ ٹیپ میڈ اور تماشا پر لائیو اسٹریم کیے جا رہے ہیں، اس لیے شائقین گھر بیٹھے میچ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے ایک اچھی پیش رفت ہے، کیونکہ پہلے ڈومیسٹک میچوں کو دیکھنا مشکل ہوتا تھا۔ اب شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

سلور کے دو گروپ

سلور ٹائر کی بارہ ٹیموں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں لاہور بلوز، راولپنڈی، لاڑکانہ، کوئٹہ، بہاولپور اور پشاور وائٹس شامل ہیں۔ گروپ بی میں کراچی وائٹس، آزاد جموں و کشمیر، حیدرآباد، ڈیرہ مراد جمالی، ایبٹ آباد اور سیالکوٹ وائٹس ہیں۔ ہر گروپ کی ٹیمیں آپس میں کھیلیں گی، اور ہر گروپ کی فاتح ٹیم فائنل میں پہنچے گی۔

سلور کے گروپ اے کے میچ کراچی میں کھیلے جا رہے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک گراؤنڈ، یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس اور کے سی سی اے اسٹیڈیم شامل ہیں۔ سلور کے دیگر میچ ملتان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں بھی ہو رہے ہیں۔ سلور کے ہر راؤنڈ کے چھ میں سے چار میچ لائیو اسٹریم کیے جائیں گے، اس لیے ان میچوں کو بھی دیکھا جا سکے گا۔

سلور ٹورنامنٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی فاتح ٹیم کو اگلے سیزن میں گولڈ میں کھیلنے کا موقع ملے گا۔ اس سے چھوٹے علاقوں کی ٹیموں کو اوپر آنے کی ترغیب ملتی ہے۔ مثال کے طور پر لاڑکانہ، کوئٹہ اور ڈیرہ مراد جمالی جیسی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیت دکھا کر قومی سلیکٹرز کی نظروں میں آئیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا یہی مقصد ہے کہ ملک کے ہر حصے سے ٹیلنٹ سامنے آئے۔

اس سال ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پشاور اور سیالکوٹ پہلی بار فرسٹ کلاس کرکٹ میں دو دو ٹیموں کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔ پشاور کی دو ٹیمیں پشاور بلوز اور پشاور وائٹس ہیں، اور سیالکوٹ کی دو ٹیمیں سیالکوٹ بلوز اور سیالکوٹ وائٹس ہیں۔ اس سے ان علاقوں کے زیادہ کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا، اور ان علاقوں میں کرکٹ کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

ستاروں کی موجودگی

اس ایڈیشن کی سب سے بڑی خصوصیت قومی ٹیم کے ستاروں کی موجودگی ہے۔ بابر اعظم لاہور وائٹس کے لیے کھیل رہے ہیں، اور ان کا مقصد ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز بنا کر اپنی فارم بحال کرنا ہے۔ بابر اس وقت پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ہیں، اور وہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی تیاری کے طور پر بھی یہ میچ کھیل رہے ہیں۔ ان کے لیے قائداعظم ٹرافی میں اچھی کارکردگی ٹیسٹ سیریز سے پہلے اعتماد بحال کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

شاہین شاہ آفریدی فاٹا کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان ون ڈے ٹیم کے کپتان ہیں اور دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی قیادت میں فاٹا کی ٹیم مضبوط نظر آتی ہے۔ ان کے علاوہ محمد رضوان اور فخر زمان جیسے معروف کھلاڑی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ قومی ٹیم کے ستاروں کی ڈومیسٹک کرکٹ میں موجودگی سے ٹورنامنٹ کا معیار بلند ہوتا ہے، نوجوان کھلاڑیوں کو ان کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے، اور شائقین کی دلچسپی بھی بڑھتی ہے۔

بابر اور شاہین کے درمیان افتتاحی راؤنڈ کا مقابلہ خاص طور پر دلچسپ ہے۔ ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے اس میچ میں بابر کی بیٹنگ اور شاہین کی بولنگ کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس میچ کے دوران ایک دلچسپ لمحہ بھی سامنے آیا، جب بابر اعظم امپائر کے ایک فیصلے پر ناخوش نظر آئے۔ یہ میچ اس بات کی مثال ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی مقابلہ کتنا سخت ہوتا ہے، اور قومی ستارے بھی یہاں پوری سنجیدگی سے کھیلتے ہیں۔

بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اسکواڈز میں ٹورنامنٹ کے دوران تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ ریزرو کھلاڑی اور قومی ذمہ داریوں سے واپس آنے والے کھلاڑی سلیکشن کے لیے دستیاب رہیں گے، اس لیے اعلان شدہ اسکواڈز حتمی پلیئنگ الیون نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران مزید قومی کھلاڑی بھی مختلف ٹیموں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ٹورنامنٹ کی تاریخ: 1953 سے آج تک

قائداعظم ٹرافی پاکستان کا قدیم ترین فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ہے۔ اس کا نام قائداعظم محمد علی جناح کے نام پر رکھا گیا ہے، جو پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل تھے۔ ٹورنامنٹ کا پہلا ایڈیشن 1953-54 کے سیزن میں کھیلا گیا تھا۔ اس کا مقصد 1954 میں انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا انتخاب کرنا تھا۔ پہلے ایڈیشن میں سات ٹیموں نے حصہ لیا تھا: بہاولپور، پنجاب، کراچی، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ، کمبائنڈ سروسز اور پاکستان ریلوے۔

پہلے ایڈیشن کی فاتح بہاولپور تھی، جس کی قیادت عظیم بیٹر حنیف محمد کر رہے تھے۔ بہاولپور نے فائنل میں پنجاب کو کراچی کے کے جی اے گراؤنڈ میں آٹھ وکٹوں سے ہرایا تھا۔ حنیف محمد اس سیزن کے بہترین کھلاڑی تھے، انہوں نے 513 رنز بنائے تھے، ان کی اوسط 128.25 تھی اور سب سے بڑا اسکور 174 رنز تھا۔ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کی آزادی کے بعد ملک میں کھیلا جانے والا پہلا فرسٹ کلاس مقابلہ تھا۔

پاکستان میں پہلا فرسٹ کلاس میچ اس سے بھی پہلے، 27 سے 29 دسمبر 1947 کو لاہور کے باغ جناح گراؤنڈ میں سندھ اور پنجاب کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ یہ آزادی کے چند ماہ بعد ہوا تھا۔ اس کے بعد چند سال تک ڈومیسٹک کرکٹ کا کوئی منظم ڈھانچہ نہیں تھا، اور قائداعظم ٹرافی نے اس خلا کو پر کیا۔ تب سے یہ ٹورنامنٹ تقریباً ہر سال کھیلا جا رہا ہے، اور اب اس کا 69 واں ایڈیشن ہو رہا ہے۔ سات دہائیوں میں اس ٹورنامنٹ نے پاکستان کرکٹ کو بے شمار کھلاڑی دیے ہیں۔

ٹورنامنٹ کی تاریخ میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ کبھی اس میں محکمہ جاتی ٹیمیں بھی کھیلتی تھیں، کبھی صرف علاقائی ٹیمیں۔ ٹیموں کی تعداد بھی بدلتی رہی ہے، ایک ایڈیشن میں 26 ٹیمیں بھی حصہ لے چکی ہیں۔ لیکن ٹورنامنٹ کا بنیادی مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: ملک کے بہترین فرسٹ کلاس کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم دینا اور قومی ٹیم کے لیے ٹیلنٹ تلاش کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ کو پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا تاج کہا جاتا ہے۔

قومی ٹیم کے لیے اہمیت

قائداعظم ٹرافی کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اسی سے قومی ٹیم کے لیے کھلاڑی چنے جاتے ہیں۔ جو کھلاڑی یہاں مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، وہی قومی ٹیم میں جگہ بناتے ہیں۔ اس سال بھی یہی ہو رہا ہے: سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے چنے گئے تین نئے کھلاڑیوں — سمیر منہاس، محمد طحہ اور محمد سلیمان — نے ڈومیسٹک کرکٹ میں ہی اپنی صلاحیت ثابت کی تھی۔ اسی طرح اذان اویس اور عبداللہ فضل بھی ڈومیسٹک کرکٹ سے ہی سامنے آئے ہیں۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی مایوس کن رہی ہے، اور ٹیم کو نئے کھلاڑیوں کی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے اس سال کی قائداعظم ٹرافی پر سلیکٹرز کی خاص نظر ہے۔ جو کھلاڑی یہاں رنز بنائیں گے یا وکٹیں لیں گے، ان کے لیے قومی ٹیم کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ خاص طور پر فاسٹ بولرز اور اوپنرز کی تلاش میں سلیکٹرز اس ٹورنامنٹ کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

ٹورنامنٹ کا شیڈول بھی اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ ٹیسٹ سیریز کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کھلاڑی ٹیسٹ اسکواڈ میں نہیں ہیں، وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی فارم ثابت کر سکتے ہیں، اور اگر ٹیسٹ ٹیم میں کوئی کھلاڑی زخمی ہو جائے یا ناکام ہو، تو اس کی جگہ لینے کے لیے تیار کھلاڑی موجود ہوں گے۔ یہ ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان ایک مضبوط ربط ہے۔

آنے والے ہفتوں میں قائداعظم ٹرافی کے میچ جاری رہیں گے، اور گولڈ کا فائنل 15 سے 19 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔ اس وقت تک پتہ چل جائے گا کہ کون سی ٹیم 69 ویں ایڈیشن کی چیمپئن بنتی ہے۔ اس دوران ابوظہبی ٹی ٹین لیگ کا تنازع بھی جاری ہے، جس میں کئی پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت خطرے میں ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے قائداعظم ٹرافی اپنی صلاحیت دکھانے کا بہترین موقع ہے، اور شائقین کے لیے یہ پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو دیکھنے کا موقع ہے۔

ٹیگز:قائداعظم ٹرافی 2026بابر اعظمشاہین آفریدیفرسٹ کلاس کرکٹQuaid-e-Azam Trophyکراچی بلوزلاہور وائٹسڈومیسٹک کرکٹ
← تمام خبریں دیکھیں