تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← دنیا ← یورپ میں جعلی بم کی دھمکیوں سے 25 پروازیں متاثر، فرانس میں ملک گیر ہڑتال
یورپ میں جعلی بم کی دھمکیوں سے 25 پروازیں متاثر، فرانس میں ملک گیر ہڑتال
دنیا

یورپ میں جعلی بم کی دھمکیوں سے 25 پروازیں متاثر، فرانس میں ملک گیر ہڑتال

فونٹ سائز:

تیسرے روز بھی جعلی دھمکیوں سے پروازیں متاثر — فرانس میں لاکھوں کارکن سڑکوں پر، ایفل ٹاور بند، ایک تہائی اسکول بند۔

اہم نکات

  • 5 نومبر کو یورپ بھر میں کم از کم 25 پروازیں جعلی بم دھمکیوں سے متاثر ہوئیں
  • فرانسیسی، اطالوی اور بلغاریائی لڑاکا طیاروں نے کئی پروازوں کو حفاظت کے ساتھ اتارا
  • کسی بھی پرواز میں دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، تمام مسافر محفوظ رہے
  • فرانس میں 6 لاکھ سے زائد افراد نے زیادہ تنخواہوں کے لیے مظاہرہ کیا
  • ایفل ٹاور بند رہا اور تقریباً ایک تہائی ہائی اسکول بند رہے

روم: یورپ بھر میں جعلی بم کی دھمکیوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا۔ پانچ نومبر کو کم از کم 25 پروازیں ان دھمکیوں کی وجہ سے متاثر ہوئیں، جن میں سے کئی کو راستہ بدلنا پڑا اور بعض کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں اتارا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اس ہفتے میں دوسری لہر تھی، جبکہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ تیسرا روز تھا جب ایسی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ سیکیورٹی جانچ کے بعد کسی بھی پرواز میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا اور تمام مسافر محفوظ رہے، لیکن اس واقعے نے یورپ کی فضائی سلامتی اور ان دھمکیوں کے پیچھے موجود مقاصد کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متاثرہ پروازیں آئرلینڈ سے بلغاریہ تک پھیلی ہوئی تھیں۔ خاص طور پر کم قیمت والی ایئرلائنز اور بلغاریہ، جمہوریہ چیک اور اٹلی جانے یا وہاں سے آنے والی پروازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یورپ کی فضائی سلامتی کی تنظیم یورو کنٹرول کے مطابق اس روز براعظم بھر میں 25,072 پروازیں طے تھیں، جن میں سے کم از کم 25 کو دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ یہ تعداد مجموعی پروازوں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن ایک ہی روز میں اتنی پروازوں کو نشانہ بنانا اور لڑاکا طیاروں کو حرکت میں لانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

سب سے نمایاں واقعہ ایر لنگس کی پرواز ای آئی 402 کا تھا، جو ڈبلن سے روم جا رہی تھی۔ فرانسیسی وزیراعظم سیباستین لیکورنو کے دفتر کے مطابق فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے اس پرواز کو روکا اور اسے پیرس سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ایوریو کے فوجی اڈے پر اتارا۔ فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ پائلٹ نے حکام کے ساتھ توقع کے مطابق تعاون نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ پرواز کے تمام مسافر محفوظ رہے اور جانچ میں کوئی خطرناک چیز نہیں ملی۔

اٹلی کی فضائیہ نے بھی ایک فن ایئر کی پرواز کو حفاظت کے ساتھ روم پہنچایا۔ یہ پرواز اے وائی 1751 ہیلسنکی سے روم جا رہی تھی اور اسے اطالوی لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں روم کے فیومیچینو ہوائی اڈے پر اتارا گیا، جہاں بم کے ماہرین نے اس کی جانچ کی۔ بلغاریہ کی فضائیہ نے تین رائن ایئر طیاروں کو زمین پر اتارنے میں مدد کی۔ یہ طیارے میڈرڈ، کوپن ہیگن اور لندن اسٹینسٹڈ سے صوفیہ جا رہے تھے۔ ان میں سے دو طیارے طے شدہ طور پر صوفیہ میں اترے، جبکہ لندن سے آنے والی پرواز کو بلغاریہ کے دوسرے بڑے شہر پلوودیف کی طرف موڑ دیا گیا۔ بلغاریہ کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ تینوں طیاروں کی جانچ کی گئی اور کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔

کون سی پروازیں متاثر ہوئیں

اسپین میں حکام کو صبح نو بجے کے قریب بیس منٹ سے بھی کم وقت میں تین ای میل کے ذریعے بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ان میں میڈرڈ سے پیرس جانے والی ایئر یوروپا کی دو پروازیں اور روم اور میلان سے آنے والی آئبیریا کی چار پروازیں شامل تھیں۔ اسپین کی سول گارڈ نے ان دھمکیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایک اور واقعے میں وارسا سے پیرس جانے والی پولینڈ کی ایئرلائن لوٹ کی پرواز کو اڑان سے قبل رن وے پر روک دیا گیا اور مسافروں کو احتیاط کے طور پر دوسرے طیارے میں منتقل کر دیا گیا۔

چیک جمہوریہ میں پراگ جانے والی چار پروازوں کو دھمکیاں موصول ہوئیں، جن میں برطانیہ سے دو ایزی جیٹ پروازیں، آئرلینڈ سے ایک پرواز اور یونان سے ایک پرواز شامل تھی۔ یہ تمام پروازیں طے شدہ طور پر پراگ میں اتریں۔ اٹلی کے میڈیا کے مطابق میلان سے وارسا جانے والی وز ایئر کی پرواز کو ویانا کی طرف موڑ دیا گیا، جبکہ میلان سے بخارسٹ جانے والی وز ایئر کی ایک اور پرواز بحفاظت اتری۔ رومانیہ کی انٹیلیجنس ایجنسی نے اس کی تصدیق کی۔ سربیا کی ایئر سربیا کی بلغراد سے بخارسٹ جانے والی پرواز بھی بحفاظت اتری۔

ہیلسنکی سے ویانا جانے والی فن ایئر کی ایک اور پرواز، جو جیٹ ٹائم کے ذریعے چلائی جا رہی تھی، دھمکی ملنے کے بعد بھی معمول کے مطابق ویانا میں اتری۔ وارسا سے برسلز جانے والی لوٹ کی پرواز بھی طے شدہ طور پر اتری۔ مجموعی طور پر صرف تین پروازوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا، لیکن کم از کم پانچ پروازوں کو فوجی طیاروں کی نگرانی حاصل ہوئی۔ تمام پروازوں کے مسافر محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ دھمکیاں صرف اسی روز تک محدود نہیں تھیں۔ اے ایف پی کے مطابق اس ہفتے میں 20 سے زائد جعلی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں اور کم قیمت والی ایئرلائن رائن ایئر کم از کم سات بار نشانہ بن چکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم مہم ہے، جس کا مقصد یورپ کی فضائی آمدورفت میں خلل ڈالنا اور خوف پھیلانا ہو سکتا ہے۔

دھمکیاں کہاں سے آئیں اور ان میں کیا لکھا تھا

اب تک ان دھمکیوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے اور ان کی اصل اور مقاصد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم کچھ دھمکیوں میں ایسے پیغامات شامل تھے جن سے ان کے پیچھے موجود سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اطالوی اخبار کورئیرے دیلا سیرا نے ایک ایسا پیغام شائع کیا تھا جو روم کے ہوائی اڈوں کا انتظام کرنے والی کمپنی اے ڈی آر کو بھیجا گیا تھا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ دو پروازوں، یعنی ہیلسنکی سے روم جانے والی اے وائی 1751 اور ڈبلن سے روم جانے والی ای آئی 402 میں دھماکہ خیز آلات رکھے گئے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق روم اور صوفیہ کے ہوائی اڈوں کو بھیجی گئی دھمکیوں میں خواتین کے خلاف نفرت انگیز پیغامات شامل تھے اور ان میں خود کو میل اسٹیٹ کے جنگجو قرار دیا گیا تھا۔ برطانیہ کے ایک ہوائی اڈے کو بھی اسی طرح کی دھمکی موصول ہوئی تھی، جس میں اسی گروہ کا نام لیا گیا تھا۔ ان پیغامات سے لگتا ہے کہ دھمکیاں دینے والوں کا تعلق ان آن لائن حلقوں سے ہو سکتا ہے جو خواتین کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، لیکن حکام نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکالا ہے۔

دھمکیوں کی نوعیت اور ان کے پھیلاؤ نے یورپی حکام کو پریشان کر دیا ہے۔ ایک جانب یہ دھمکیاں ای میل کے ذریعے بھیجی جا رہی ہیں، دوسری جانب ان کا ہدف خاص طور پر کم قیمت والی ایئرلائنز اور مخصوص ممالک کی پروازیں ہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دھمکیاں دینے والوں کے پاس پروازوں کی تفصیلی معلومات تھیں اور کیا وہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ یورپی ممالک کی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ان سوالات کے جوابات تلاش کر رہی ہیں۔

یورپ میں ہائبرڈ حملوں کا پس منظر

ان دھمکیوں کو یورپ میں بڑھتے ہوئے ہائبرڈ حملوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کسی بھی ملک نے ان دھمکیوں کا الزام کسی پر نہیں لگایا ہے، لیکن یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب کئی یورپی حکام روس پر تخریب کاری کا الزام لگا چکے ہیں۔ ڈنمارک، پولینڈ اور رومانیہ، جو اس ہفتے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، پہلے روس پر براہ راست الزام لگا چکے ہیں۔ جرمنی نے بھی اگست میں لائپزگ ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دیا تھا۔

ہوابازی کی سلامتی کے گروہ ڈیامی کے سربراہ ایرک شاؤٹن نے کہا ہے کہ متاثرہ ممالک میں سے بیشتر نے یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ دھمکیوں کا نشانہ وہی ممالک بنے ہیں جو یوکرین کے حامی ہیں۔ تاہم انہوں نے بھی واضح کیا کہ اس وقت تک ان دھمکیوں کا تعلق کسی خاص ملک یا گروہ سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

یورپی حکام کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ جعلی دھمکیوں کا سلسلہ ہوائی اڈوں اور ایئرلائنز کے لیے بھاری مالی نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ہر بار جب کسی پرواز کو موڑا جاتا ہے یا لڑاکا طیارے بھیجے جاتے ہیں، تو اس پر ہزاروں یورو خرچ ہوتے ہیں اور مسافروں کو گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایئرلائنز کو اپنی سلامتی کے طریقہ کار پر ازسر نو غور کرنا پڑے گا۔

فرانس میں ملک گیر ہڑتال

دوسری جانب فرانس میں جمعرات کو لاکھوں کارکنوں نے زیادہ تنخواہوں کے مطالبے پر ملک گیر ہڑتال کی۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا، جبکہ مزدور یونین سی جی ٹی کا دعویٰ تھا کہ مظاہرین کی تعداد 16 لاکھ تک تھی۔ الجزیرہ کے مطابق وزارت داخلہ نے 575,000 افراد کی شرکت کی تصدیق کی تھی۔ ملک بھر میں تقریباً 260 مظاہرے طے تھے اور پیرس، لیون، مارسیل اور نانٹ سمیت بڑے شہروں میں بڑے جلوس نکلے۔

ہڑتال کا اہتمام پانچ بڑی مزدور یونینوں نے کیا تھا۔ مظاہرین زیادہ تنخواہوں، کم از کم اجرت میں اضافے، ٹیکس کے نظام میں تبدیلی اور اسکولوں کے لیے بہتر سہولتوں کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پیرس میں مارچ دوپہر کو پلاس دی لا ریپبلک سے شروع ہوا اور پلاس دی لا نیشن تک گیا۔ صرف پیرس میں 80,000 افراد کے مارچ میں شامل ہونے کی توقع تھی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے 70,000 پولیس اہلکار تعینات کیے تھے، جن کے ساتھ بکتر بند گاڑیاں، ڈرون اور ہیلی کاپٹر بھی تھے۔

ہڑتال سے روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ تقریباً ایک تہائی ہائی اسکول بند رہے یا کام نہیں کر سکے، جن میں سے بعض میں طلبہ نے ناکہ بندی کر رکھی تھی اور بعض میں اساتذہ ہڑتال پر تھے۔ وزارت تعلیم کے مطابق 16 فیصد اساتذہ ہڑتال پر تھے، جبکہ پرائمری اسکولوں میں یہ شرح 19 فیصد تک تھی۔ حکومت کے مطابق ملک کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے 81 میں ناکہ بندی کی گئی تھی، جبکہ طلبہ کی ایک تنظیم کا دعویٰ تھا کہ ناکہ بندی اور بندش کی وجہ سے 1,000 اسکولوں میں کلاسیں معطل ہو گئی تھیں۔

ایفل ٹاور کو بھی اس روز کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ ٹاور کی انتظامیہ نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا تھا کہ قومی ہڑتال کی وجہ سے ٹاور بند ہے۔ لوور میوزیم کے بعض حصے اور آرک دی ٹرائمف بھی بند رہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بری طرح متاثر ہوئی اور کئی شہروں میں ٹرینیں اور بسیں نہیں چلیں۔ پیرس اور لیون سمیت کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پیرس کے علاقے میں کئی ہائی اسکولوں کو نقصان پہنچا اور شہر کے مرکز میں ایک اسکول کو آگ بھی لگا دی گئی۔

احتجاج کی جڑیں کہاں ہیں

فرانس میں یہ احتجاج اچانک شروع نہیں ہوا تھا۔ ستمبر کے وسط سے طلبہ سرکاری اسکولوں کی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ ان کی شکایات میں عملے کی کمی، بھیڑ بھری کلاسیں اور تعلیمی وسائل کی کمی شامل تھی۔ ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے ان مظاہروں نے آہستہ آہستہ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی، جس میں اساتذہ، ٹرانسپورٹ کے کارکن، صحت کے شعبے کے ملازمین اور دیگر سرکاری ملازمین بھی شامل ہو گئے۔

اس تحریک میں زرد واسکٹ یعنی یلو ویسٹ تحریک کے کارکن بھی شامل ہو گئے، جو مہنگائی اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سی جی ٹی یونین کی سربراہ صوفی بینے نے کہا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور حکومت کو تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

یہ ہڑتال صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت پہلے ہی بجٹ کے معاملے میں مشکلات کا شکار ہے اور اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ عوامی خدمات پر خرچ بڑھائے۔ مظاہروں کے بعد حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مزدور یونینوں کے مطالبات پر کس حد تک غور کرے گی۔ اگر حکومت نے مطالبات کو نظرانداز کیا تو احتجاج کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

مسافروں اور معیشت پر اثرات

جعلی بم دھمکیوں اور فرانس کی ہڑتال نے ایک ہی روز میں یورپ کی آمدورفت کو دوہرا دھچکا پہنچایا۔ ایک جانب پروازیں متاثر ہوئیں اور مسافروں کو گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، دوسری جانب فرانس میں ٹرینیں، بسیں اور اسکول بند رہے۔ سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ایفل ٹاور جیسے مشہور مقامات بند تھے۔ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی پرواز اور ٹرانسپورٹ کی صورتحال کی تصدیق کر لیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی دھمکیوں کا سلسلہ اگر جاری رہا تو یورپی ممالک کو اپنی فضائی سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا پڑے گا۔ اس میں دھمکیوں کی فوری تصدیق کے طریقے، ایئرلائنز اور حکام کے درمیان بہتر رابطہ اور ان دھمکیوں کے پیچھے موجود افراد کو پکڑنے کے لیے بین الاقوامی تعاون شامل ہوگا۔ یورپ میں اس وقت مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے سلامتی کے خدشات پہلے ہی بڑھے ہوئے ہیں، اور یہ نیا سلسلہ ان خدشات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اسرائیل میں حکومت سازی کی کوششوں سمیت خطے کی سیاسی صورتحال بھی یورپ کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

فرانس کی ہڑتال کے حوالے سے بھی آنے والے دن اہم ہوں گے۔ مزدور یونینوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ مزید ہڑتالیں کریں گی۔ حکومت اور یونینوں کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا ہے، لیکن دونوں جانب سے ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ فرانس کے عوام اور مسافر دونوں یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ تعطل جلد ختم ہوگا یا احتجاج کا سلسلہ مزید طول پکڑے گا۔

ٹیگز:یورپ بم دھمکیفرانس ہڑتالایفل ٹاور بندیورپ پروازیںفرانس مظاہرےEurope bomb hoaxFrance strikeEiffel Tower closed
← تمام خبریں دیکھیں