تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← دنیا ← اسرائیل: آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 67 ارکان کی حمایت، نیتن یاہو کمزور
اسرائیل: آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 67 ارکان کی حمایت، نیتن یاہو کمزور
دنیا

اسرائیل: آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 67 ارکان کی حمایت، نیتن یاہو کمزور

فونٹ سائز:

سابق آرمی چیف کو عرب جماعتوں سمیت 67 ارکان کی حمایت حاصل — صدر ہرزوگ اتوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دے سکتے ہیں۔

اہم نکات

  • گاڈی آئزن کوٹ کو 120 رکنی کنیسٹ میں سے 67 ارکان کی سفارش حاصل ہو گئی
  • نیتن یاہو کو صرف 46 ارکان کی حمایت ملی، ان کے دیرینہ اتحادی یو ٹی جے نے کسی کی سفارش نہیں کی
  • صدر آئیزک ہرزوگ اتوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے کا فیصلہ کریں گے
  • عرب جماعتوں کی 19 نشستیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں
  • مینڈیٹ ملنے والے رہنما کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملیں گے

یروشلم: اسرائیل کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو گئی ہے۔ سابق آرمی چیف اور یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ نے اگلی حکومت بنانے کے لیے 120 رکنی کنیسٹ میں سے 67 ارکان کی حمایت حاصل کر لی ہے، جن میں عرب جماعتوں کی مشترکہ فہرست بھی شامل ہے۔ صدر آئیزک ہرزوگ نے گزشتہ ہفتے کے پارلیمانی انتخابات کے مصدقہ نتائج کو قبول کر لیا ہے اور حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ توقع ہے کہ اتوار کو آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا جائے گا، جس سے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی پوزیشن نمایاں طور پر کمزور ہو گئی ہے، جنہیں صرف 46 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

صدر ہرزوگ کی جانب سے دو روز تک جاری رہنے والی مشاورت جمعرات پانچ نومبر کو مکمل ہوئی۔ مشاورت کے اختتام پر صدر نے بتایا کہ 67 ارکان پر مشتمل جماعتوں کے نمائندوں نے یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی سفارش کی ہے، جبکہ 46 ارکان پر مشتمل جماعتوں نے وزیراعظم اور لیکود پارٹی کے سربراہ بنجمن نیتن یاہو کی حمایت کی ہے۔ سات ارکان نے کسی بھی امیدوار کی سفارش نہیں کی۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 67 سفارشات کا یہ اعداد 2015 کے بعد سے کسی بھی امیدوار کو ملنے والی سب سے زیادہ سفارشات ہیں، جو اس پیش رفت کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسرائیل میں حکومت سازی کا طریقہ کار پارلیمانی روایات پر مبنی ہے۔ انتخابات کے بعد صدر تمام منتخب جماعتوں سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر اس رکن کنیسٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ حکومت بنانے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ بنیادی قانون کے تحت صدر کو اس فیصلے میں وسیع اختیار حاصل ہے، لیکن روایت یہ ہے کہ جس امیدوار کو ارکان کی اکثریت کی سفارش حاصل ہو، اسے ہی مینڈیٹ دیا جاتا ہے۔ 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور آئزن کوٹ کو ملنے والی 67 سفارشات اس حد سے واضح طور پر زیادہ ہیں۔

67 سفارشات کیسے جمع ہوئیں

آئزن کوٹ کی حمایت تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ 48 ارکان پر مشتمل یہودی قیادت والا اپوزیشن بلاک ہے، جس میں یشار پارٹی، ٹوگیدر پارٹی، ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتینو شامل ہیں۔ دوسرا حصہ راعم پارٹی کے آٹھ ارکان ہیں، جبکہ تیسرا حصہ عرب جماعتوں کی مشترکہ فہرست کے 11 ارکان ہیں۔ ان تینوں حصوں کو ملا کر کل 67 کا اعداد بنتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عرب جماعتوں نے اس طرح متحد ہو کر کسی امیدوار کی سفارش کی ہے اور ان کی حمایت نے آئزن کوٹ کو اکثریت دلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نیتن یاہو کو لیکود، شاس، مذہبی صہیونیت، زہوت اور اوتزمہ یہودیت کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی، جن کے ارکان کی مجموعی تعداد 46 بنتی ہے۔ نیتن یاہو کے بلاک کی کل نشستیں انتخابات میں 53 تھیں، لیکن ان کے دیرینہ اتحادی متحدہ تورات یہودیت یعنی یو ٹی جے نے کسی بھی امیدوار کی سفارش کرنے سے انکار کر دیا۔ یو ٹی جے کی سات نشستیں سفارش سے باہر رہیں، جس سے نیتن یاہو کی حمایت 46 تک محدود ہو گئی۔ یو ٹی جے کا یہ فیصلہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کے دیرینہ اتحاد میں ایک بڑی دراڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یو ٹی جے کے نمائندوں نے صدر ہرزوگ کو بتایا کہ کسی بھی مستقبل کی حکومت کی ان کی حمایت کچھ شرائط سے مشروط ہے، جن میں ان کے مذہبی طبقے کے لیے فوجی خدمت سے چھوٹ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ اسرائیل کی سیاست میں طویل عرصے سے متنازع رہا ہے اور کئی حکومتوں کے لیے مشکل کا باعث بن چکا ہے۔ یو ٹی جے کی غیر جانبداری نے نیتن یاہو کے لیے صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے، کیونکہ ان کے پاس اب اکثریت حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا۔

صدر ہرزوگ نے مشاورت مکمل ہونے کے بعد کہا کہ نتائج بظاہر واضح معلوم ہو سکتے ہیں، لیکن قانون کے تحت ان کا اختیار یہ طے کرنا ہے کہ حکومت بنانے کی صلاحیت کس کے پاس ہے، اور یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بلاکوں کے درمیان اور بلاکوں کے اندر باہمی ویٹو موجود ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال پیچیدہ ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ اپنا فیصلہ کرنے سے پہلے کچھ جماعتوں کے سربراہوں سے براہ راست بات چیت کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مینڈیٹ کا اعلان اتوار تک مؤخر کر دیا ہے، حالانکہ سفارشات کا اعداد واضح طور پر آئزن کوٹ کے حق میں ہے۔

گاڈی آئزن کوٹ کون ہیں

گاڈی آئزن کوٹ اسرائیل کے سابق فوجی سربراہ ہیں اور اب یشار پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ انتخابات سے قبل اپوزیشن کے اہم ترین رہنما کے طور پر سامنے آئے اور انہوں نے قومی اتحاد کی بحالی کا وعدہ کیا تھا۔ تین نومبر کو ہرتصلیہ کے ایک ہوٹل میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی، جن میں ڈیموکریٹس کے سربراہ یائیر گولان، ٹوگیدر پارٹی کے چیئرمین نفتالی بینیٹ، اسرائیل بیتینو کے سربراہ ایوگدور لیبرمین اور ٹوگیدر پارٹی کے نائب سربراہ یائیر لاپڈ شامل تھے۔ اس ملاقات کو اپوزیشن کے اتحاد کی ایک علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

آئزن کوٹ نے حکومت سازی کے لیے اپنی ایک شرط بھی واضح کر دی ہے۔ ان کے مطابق ان کی ممکنہ حکومت میں شامل ہونے والی جماعتوں کو حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ شرط خاص طور پر عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ اس سے مستقبل کی اتحادی حکومت کی پالیسی کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم عرب جماعتوں نے اس شرط کے باوجود ان کی سفارش کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی اولین ترجیح نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانا تھی۔

یشار پارٹی نے جمعرات کو صدر ہرزوگ سے ملاقات کے دوران اپنے سربراہ کی سفارش کی، جس کے بعد آئزن کوٹ کی حمایت کا اعداد 67 تک پہنچ گیا۔ اس سے قبل اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے، جن میں مشترکہ فہرست اور متحدہ عرب فہرست بھی شامل تھیں، آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے یشار پارٹی نے زور دیا ہے کہ مینڈیٹ جلد از جلد آئزن کوٹ کو دیا جائے۔

عرب جماعتوں کا فیصلہ کن کردار

اس بار کے انتخابات میں عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کیں، جس نے انہیں فیصلہ کن قوت بنا دیا۔ عرب قیادت والی مشترکہ فہرست نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ آئزن کوٹ کی سفارش کرے گی۔ اس فیصلے کے بارے میں مشترکہ فہرست کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانا ہے۔ راعم پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے بھی آئزن کوٹ کی سفارش کی اور اس موقع پر دو ریاستی حل کی حمایت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی تائید کا اعادہ کیا۔

عرب جماعتوں کی اس متحدہ حمایت نے اسرائیل کی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ ماضی میں عرب جماعتیں عموماً حکومت سازی کے عمل سے باہر رہتی تھیں یا ان کی سفارشات کو فیصلہ کن اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ اس بار ان کی 19 نشستوں نے صورتحال بدل دی ہے، کیونکہ نہ نیتن یاہو کا بلاک اور نہ ہی آئزن کوٹ کا بلاک اکیلے اکثریت حاصل کر سکا تھا۔ عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر آئزن کوٹ کے پاس 48 سفارشات ہوتیں، جو 61 کی حد سے کم ہوتیں۔

تاہم سفارش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ جماعتیں لازمی طور پر آئزن کوٹ کی کابینہ میں شامل ہوں گی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق 67 سفارشات دینے والے ارکان میں سے صرف 48 ارکان فی الحال بغیر کسی شرط کے ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عرب جماعتوں کی حمایت ایک سفارش ہے، اتحادی حکومت میں شمولیت کا وعدہ نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے صدر ہرزوگ نے صورتحال کو پوری طرح واضح نہیں قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے انتخابات کے نتائج کو چیلنج کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے رشوت، غیر ملکی فنڈنگ اور دھوکہ دہی کے ذریعے ووٹ چوری کیے ہیں۔ یہ دعوے انہوں نے انتخابات کے بعد اپنی پہلی عوامی پیشی میں کیے تھے۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت عوامی طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے، اور مرکزی الیکشن کمیٹی نے نتائج کو مصدقہ قرار دے کر صدر کو حوالے کر دیا ہے۔

نیتن یاہو کی کمزور ہوتی پوزیشن

بنجمن نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں۔ انہوں نے ملک کی قیادت تین سال کی جنگ کے دوران کی ہے اور وہ ایک متنازع اور تقسیم کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس بار کے انتخابات میں ان کے بلاک کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ آئزن کوٹ کے بلاک کو 48 نشستیں حاصل ہوئیں۔ نشستوں کے اعتبار سے نیتن یاہو کا بلاک آگے تھا، لیکن سفارشات کے معاملے میں وہ پیچھے رہ گئے، کیونکہ ان کے اتحادی یو ٹی جے نے ان کی سفارش نہیں کی۔

یو ٹی جے کا فیصلہ نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ یہ جماعت طویل عرصے سے ان کی حکومتوں کی حامی رہی ہے۔ اس جماعت کی غیر جانبداری نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد اب پہلے جیسا مضبوط نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یو ٹی جے اپنی شرائط منوانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور مستقبل کی کسی بھی حکومت سے اپنے مطالبات پورے کروانا چاہتی ہے۔

سیاسی تعطل کے دوران نئی کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو ہوگی۔ اپوزیشن جماعتیں نئی کنیسٹ کے پہلے اجلاس میں ہی اسپیکر تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور لیکود کے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کو ہٹانا چاہتی ہیں۔ ان کے پاس اس کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے، کیونکہ سفارشات میں ان کی اکثریت واضح ہے۔ اسپیکر کا انتخاب حکومت سازی سے پہلے ایک اہم سیاسی اشارہ ہوگا۔

امریکہ سے امداد کا معاملہ

اسی دوران امریکہ سے متعلق ایک اہم پیش رفت نے بھی اسرائیلی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو، یعنی امریکی مڈٹرم انتخابات کے دن، اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو امداد دینا ختم کر دیں گے۔ صدر ہرزوگ نے اس اعلان کو بجلی گرنے جیسا قرار دیا تھا۔ سی این این کے مطابق ہرزوگ نے یہ بات یشار پارٹی سے ملاقات کے دوران کہی تھی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل میں نئی حکومت بننے جا رہی ہے اور امریکی امداد کا مستقبل نئی حکومت کے لیے ایک اہم سوال بن گیا ہے۔ امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی کے آثار پہلے ہی نظر آ رہے تھے، اور امداد کے اعلان نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

نئی حکومت کے لیے امریکی تعلقات کو سنبھالنا ایک فوری چیلنج ہوگا۔ اسرائیل امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے اور امریکی امداد اس کے دفاعی اور معاشی نظام کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ اگر امداد واقعی ختم ہوتی ہے تو نئی حکومت کو اپنے بجٹ اور دفاعی منصوبوں پر ازسر نو غور کرنا پڑے گا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کا اعلان حتمی پالیسی ہے یا مذاکرات کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہے۔

حکومت سازی کا طریقہ اور آگے کا راستہ

جس رکن کنیسٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا جاتا ہے، اسے حکومت بنانے کے لیے 28 دن ملتے ہیں۔ اگر اس مدت میں حکومت نہ بن سکے تو صدر کی صوابدید پر 14 دن کی توسیع مل سکتی ہے، بشرطیکہ کامیابی کا معقول امکان نظر آئے۔ اگر وہ بھی ناکام رہے تو مینڈیٹ کسی دوسرے امیدوار کو دے دیا جاتا ہے اور اسے مزید چار ہفتے ملتے ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ ملک زیادہ عرصے تک بغیر حکومت کے نہ رہے۔

آئزن کوٹ کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ انہیں مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کو ایک ساتھ بٹھا کر کابینہ کے عہدوں، بجٹ اور پالیسیوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ ان کی حمایت کرنے والی جماعتوں میں یہودی اور عرب دونوں بلاک شامل ہیں، جن کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ باہمی ویٹو کی صورتحال کی وجہ سے مذاکرات مشکل ہو سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ صدر ہرزوگ نے اتوار تک فیصلہ مؤخر کیا ہے تاکہ جماعتوں کے سربراہوں سے براہ راست بات کر سکیں۔

اگر آئزن کوٹ کو اتوار کو مینڈیٹ مل جاتا ہے تو اگلے چند ہفتے اسرائیل کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ کامیابی کی صورت میں اسرائیل میں ایک نئی حکومت قائم ہوگی جو نیتن یاہو کے طویل دور کا خاتمہ کرے گی۔ ناکامی کی صورت میں مینڈیٹ نیتن یاہو یا کسی تیسرے امیدوار کو دیا جا سکتا ہے، یا ملک ایک اور سیاسی تعطل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں صدر ہرزوگ کے فیصلے اور جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت پر سب کی نظریں ہوں گی۔

ٹیگز:اسرائیل انتخابات 2026گاڈی آئزن کوٹکنیسٹنیتن یاہواسرائیل حکومت سازیIsrael elections 2026EisenkotHerzog
← تمام خبریں دیکھیں