تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← دنیا ← امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی، ٹرمپ کے لیے مشکل
امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی، ٹرمپ کے لیے مشکل
دنیا

امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی، ٹرمپ کے لیے مشکل

فونٹ سائز:

کانگریس کے دونوں ایوان ڈیموکریٹس کے پاس — صدر ٹرمپ کو ایران جنگ اور اے آئی پالیسی پر اگلا قدم سوچنا پڑے گا۔

اہم نکات

  • ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا
  • سینیٹ میں 7 ریپبلکن نشستیں پلٹیں، ڈیموکریٹس کی 54 نشستیں
  • ایوان میں 25 نشستیں پلٹیں، 228 نشستیں جیت لیں
  • عبداللہ السید امریکہ کی سینیٹ میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان
  • ووٹروں نے مہنگائی، ایران جنگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر ناراضی ظاہر کی
  • مارکو روبیو نے انتظامیہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کر دی

امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی۔ انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہوئے تھے، جن میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہوا۔ فلوریڈا اور اوہائیو میں خصوصی انتخابات بھی ہوئے، کیونکہ وہاں کی نشستیں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے عہدے چھوڑنے سے خالی ہوئی تھیں۔

یہ نتیجہ امریکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ الجزیرہ کے مطابق یہ 1990 کی دہائی کے بعد ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور باراک اوباما کی دوسری مدت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی صدر کے پاس کانگریس کا کوئی ایوان بھی نہیں رہا۔ صدر ٹرمپ نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ ان کے مخالفین نے ان کی پارٹی سے بہتر مہم چلائی۔ اس نتیجے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری آٹھ ماہ پرانی جنگ کے بارے میں اگلا قدم سوچنا پڑے گا، اور ان کی انتظامیہ کو اب کانگریس میں سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا ہوگا۔

نتائج ایک نظر میں

سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے کم از کم سات ریپبلکن نشستیں پلٹیں، جن میں نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ کیرولائنا، اوہائیو، ٹیکساس، کنساس اور آئیووا شامل ہیں۔ مین میں بھی ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کی۔ اے پی کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 54 نشستیں جیت لی ہیں اور ایک اور میں برتری حاصل ہے، جبکہ ریپبلکنز کی 44 نشستیں ہیں۔ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں، اور ڈیموکریٹس نے یہ حد واضح طور پر عبور کر لی ہے۔ کچھ حلقوں میں گنتی ابھی جاری ہے، اس لیے حتمی اعداد میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن دونوں ایوانوں کا کنٹرول طے ہو چکا ہے۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 218 نشستوں کی حد عبور کر لی ہے، جو اکثریت کے لیے درکار ہے۔ اے پی کے اعداد کے مطابق انہوں نے اب تک 228 نشستیں جیت لی ہیں اور 34 دیگر میں برتری حاصل ہے۔ انہوں نے ریپبلکنز سے 25 نشستیں چھینی ہیں، جن میں کئی ایسے حلقے بھی شامل ہیں جہاں ٹرمپ نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں دوہرے ہندسوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایسے حلقوں میں بھی کامیابی حاصل کی جہاں ٹرمپ نے 2024 میں اپنے حریف کو 18 فیصد پوائنٹس سے ہرایا تھا۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ ووٹروں کا رجحان بڑے پیمانے پر بدلا ہے۔

ڈیموکریٹس نے کئی ریاستوں میں گورنر کی نشستیں بھی جیتی ہیں۔ جارجیا میں کیشا لینس باٹمز، اوہائیو میں ایمی ایکٹن، آئیووا میں روب سینڈ اور ٹیکساس میں جینا ہنوجوسا گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ ٹیکساس میں ہنوجوسا نے نئے ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کی مہم چلائی تھی، جو اس انتخابات کا ایک اہم موضوع تھا۔ ان کامیابیوں سے ڈیموکریٹس کی ریاستوں میں بھی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔

سینیٹ کی اہم جیتیں

سینیٹ کی کئی جیتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں، کیونکہ یہ ان ریاستوں میں ہوئیں جنہیں روایتی طور پر ریپبلکن گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز ٹیلاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دی۔ ٹرمپ نے 2024 میں ٹیکساس میں 14 فیصد پوائنٹس سے کامیابی حاصل کی تھی اور پیکسٹن کی حمایت کی تھی، لیکن ٹیلاریکو نے 11 فیصد سے زیادہ پوائنٹس کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔ پیکسٹن اس سے پہلے دھوکہ دہی کے الزام میں فرد جرم کا سامنا کر چکے تھے اور ریاستی مقننہ نے ان کا مواخذہ بھی کیا تھا۔

مشی گن میں ڈیموکریٹ عبداللہ السید نے ریپبلکن مائیک راجرز کو ہرا دیا۔ السید امریکہ کی سینیٹ میں منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔ وہ اس سے قبل صحت عامہ کے شعبے میں کام کر چکے ہیں، اور انہوں نے ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لی ہے۔ ان کی کامیابی امریکی سیاست میں تنوع کی ایک اہم علامت ہے۔

ساؤتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو شکست دی، جو مرحوم سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں۔ نارتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ رائے کوپر نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ ریپبلکن مائیکل واٹلی کو ہرایا۔ مین میں ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دی۔ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیرڈ براؤن نے سینیٹر جان ہسٹڈ کو ہرایا، جنہیں ڈیٹا سینٹرز کے معاملے پر ووٹروں کی ناراضی کا سامنا تھا۔

ووٹروں کا غصہ: مہنگائی اور زندگی کی لاگت

انتخابات میں ووٹروں کا سب سے بڑا موضوع زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت تھا۔ اے پی ووٹر پول کے مطابق تقریباً تین چوتھائی ووٹروں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے دور میں ملک کی سمت سے ناراض یا ناخوش ہیں۔ اے پی اور نارک کے ایک سروے میں صرف 26 فیصد ووٹروں نے ٹرمپ کی معیشت سنبھالنے کی صلاحیت کی منظوری دی۔ ریپبلکن حکمت کار کیون میڈن نے کہا کہ جب ووٹروں کی سب سے بڑی فکر مہنگائی اور استطاعت ہو، اور اس کا جواب ٹیرف، تجارتی جنگ اور ایران جنگ سے دیا جائے تو انتخابات ہارے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2025 سے اب تک صارفین کی قیمتوں اور اوسط فی گھنٹہ اجرت دونوں میں تقریباً 5.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی مزدور اس وقت سے بہتر حالت میں نہیں ہیں جب ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا تھا۔ گزشتہ چھ ماہ سے قیمتیں اجرتوں سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں، گھرانوں کی بچت کم ہو رہی ہے، اور رہن کی شرحیں 2023 کے بعد سب سے بلند سطح پر ہیں۔ سال کے آغاز میں پیٹرول کی قیمتیں کئی سال کی کم ترین سطح پر تھیں اور مہنگائی میں کمی آئی تھی، لیکن ایران جنگ نے توانائی کی قیمتیں بڑھا کر مہنگائی کو پھر بھڑکا دیا۔

معیشت کے کچھ پہلو مثبت بھی تھے: ستمبر میں بے روزگاری 4.2 فیصد تھی، اور گزشتہ پانچ سال سے یہ 4.5 فیصد سے اوپر نہیں گئی، جو ریکارڈ طویل مدت ہے۔ معیشت نے گزشتہ سہ ماہی میں سالانہ 3.4 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو اس سال کی سب سے زیادہ شرح تھی۔ کاروباری سرمایہ کاری میں بھی 12.7 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت کی مانگ تھی۔ لیکن ووٹروں نے ان مثبت اعداد کو محسوس نہیں کیا، کیونکہ ان کی روزمرہ کی زندگی میں قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔

ایران جنگ کا اثر

ایران جنگ انتخابات کا دوسرا بڑا موضوع تھی۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا تھا، اور اس کے بعد سے آٹھ ماہ کی جنگ جاری ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 2026 کے بیشتر حصے میں چار ڈالر فی گیلن سے اوپر رہی۔ امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق انتخابات کے روز اوسط قیمت 4.12 ڈالر فی گیلن تھی، جبکہ 28 فروری کو یہ 2.98 ڈالر تھی۔ جنگ پر اب تک تقریباً 47 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے انتخابات کے بعد زیادہ تر الزام ایران جنگ پر لگایا۔ ان کے مطابق جنگ نے تیل کی سپلائی میں خلل ڈالا اور پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھایا، جس سے ووٹروں کی ناراضی بڑھی۔ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل کی مدد کے لیے امریکی مالی تعاون اس سال کے آخر تک روک دیا جائے گا۔ اسرائیل نے ایران پر حملوں میں مدد کی تھی۔

ڈیموکریٹس کے کانگریس پر کنٹرول کے بعد ایران جنگ کا مستقبل بھی سوالوں میں ہے۔ کانگریس پینٹاگون کی فنڈنگ پر شرائط لگا کر، مسلسل قرارداد منظور کرنے سے انکار کر کے، یا جنگی اختیارات کی قرارداد کے تحت ووٹ کرا کر جنگ ختم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تاہم صدر کے پاس ویٹو کا اختیار ہے، اور جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔

اے آئی ڈیٹا سینٹرز کا مسئلہ

ووٹروں نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ کئی ریاستوں میں ووٹروں نے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف اور شہریوں کے تحفظ کے حق میں ووٹ دیا۔ ایک سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی اپنے علاقوں میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے مخالف ہیں۔ ان کی تشویش یہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کی تعمیر میں مقامی آبادی کی رائے کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

اوہائیو میں یہ مسئلہ خاص طور پر اہم تھا، جہاں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اے آئی ڈیٹا سینٹر بنانے کا منصوبہ ہے۔ ریاست میں ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کے لیے بیلٹ پر تجاویز آئی تھیں، اور ووٹروں نے ان کی حمایت کی۔ اوہائیو میں سینیٹر جان ہسٹڈ کو اسی معاملے پر ووٹروں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ انتخابات ہار گئے۔

ٹیکساس میں نئی گورنر جینا ہنوجوسا نے ریاست میں نئے ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کی مہم چلائی تھی۔ ٹیکساس میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر نے ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران معیشت کو فروغ دیا تھا، لیکن اس کے ساتھ بجلی کی قیمتوں اور پانی کے استعمال پر بھی سوالات اٹھے تھے۔ ڈیموکریٹس کے کانگریس پر کنٹرول کے بعد ڈیٹا سینٹرز کی پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے، حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے دو طرفہ حمایت کی ضرورت ہوگی۔

ٹرمپ کے لیے آگے کیا ہے

ڈیموکریٹس کے کانگریس پر کنٹرول کے بعد صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا ہوگا۔ ڈیموکریٹس جنوری 2027 میں ایوان کی کمیٹیوں کا کنٹرول سنبھالیں گے، جس سے وہ طلبی کے نوٹس جاری کر کے انتظامیہ، صدر کے خاندان اور ان کے کاروباری مفادات کی تحقیقات کر سکیں گے۔ سینیٹ کا کنٹرول 3 جنوری کو منتقل ہوگا۔ ایوان کے ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے کہا ہے کہ نئی کانگریس کے پہلے 100 گھنٹوں میں صحت کی سہولتوں کی سبسڈی بحال کرنے، میڈیکیڈ میں کٹوتیاں واپس لینے اور ٹرمپ کے ٹیرف کو چیلنج کرنے کے لیے ووٹ کرائے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ نئی کانگریسی قیادت کے ساتھ کام کریں گے، لیکن انہیں یاد دلایا کہ وہ ان کے بلوں کو ویٹو کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلوں کو واپس بھیج سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے دو سال میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا، اور قانون سازی میں تعطل کا خدشہ ہے۔

مواخذے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔ نیوزویک کے مطابق پیش گوئی کی مارکیٹ پولیمارکیٹ پر ٹرمپ کے 2027 کے آخر تک مواخذے کے امکانات منگل کی دوپہر 20 فیصد تھے، جو بدھ کی صبح 49 فیصد تک پہنچ گئے۔ تاہم ڈیموکریٹس کے پاس سینیٹ میں 60 ووٹوں کی حد نہیں ہے، جو فل بسٹر کو ختم کرنے کے لیے درکار ہے، اس لیے ان کی قانون سازی کی صلاحیت محدود رہے گی۔ مواخذہ ایک سیاسی عمل ہے، اور اس کے لیے ایوان میں اکثریت اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

ٹیرف کے معاملے میں بھی صورتحال پیچیدہ ہے۔ سپریم کورٹ نے فروری میں ٹرمپ کے ہنگامی ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے انہیں امریکی تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت دوبارہ نافذ کیا تھا۔ ڈیموکریٹس ان ٹیرف کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسے واپس لینا سب سے مشکل کام ہوگا۔

روبیو کی تردید، کابینہ اور مارکیٹوں کا ردعمل

وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد انتظامیہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ بلومبرگ نے رپورٹ کیا تھا کہ روبیو اور ان کے مشیر انتخابات کے بعد اپنے مستقبل پر غور کر رہے ہیں، اور انہوں نے وائٹ ہاؤس کے حکام سے استعفیٰ کے بارے میں بات بھی کی تھی۔ تاہم روبیو نے 6 نومبر کو نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں ان خبروں کی تردید کر دی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے اختتام تک ان کے لیے کام کرنا ہمیشہ سے ان کا منصوبہ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 2028 کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔

روبیو اس وقت انتظامیہ میں دو اہم عہدوں پر ہیں: وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے بھی ان کے جانے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان خبروں کو گمنام ذرائع پر مبنی من گھڑت خبر قرار دیا، جبکہ محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انہیں بے بنیاد جعلی خبر کہا۔ روبیو نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اگر نائب صدر جے ڈی وینس 2028 میں صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کریں تو وہ ان کی حمایت کریں گے۔

دفاعی وزیر پیٹ ہیگستھ کو بھی ایران جنگ کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے، اور ایک ریپبلکن قانون ساز نے اگلے ہفتے ان کے مواخذے کی کوشش کی دھمکی دی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ہیگستھ اور روبیو دونوں کے جانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ عام طور پر کابینہ کے ارکان مڈٹرم شکست کے بعد انتظامیہ چھوڑ دیتے ہیں، خاص طور پر جب انتظامیہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہو، اس لیے آنے والے ہفتوں میں کابینہ میں تبدیلیوں پر نظر رہے گی۔

انتخابات کے نتائج پر عالمی مارکیٹوں نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ ایشیا میں ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق حصص گر گئے، جبکہ امریکی خزانے کی پیداوار میں کمی آئی اور ڈالر کمزور ہوا۔ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی، اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بدھ کی دوپہر 8 فیصد گر گیا۔

آگے کے راستے میں کئی اہم تاریخیں ہیں۔ وفاقی فنڈنگ 11 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے، اور اس وقت تک ریپبلکن کانگریس ہی کنٹرول میں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹس اس ڈیڈ لائن اور اگلے سال قرض کی حد کا استعمال ٹیرف، اخراجات میں کٹوتیوں اور ایران کے معاملے پر رعایتیں حاصل کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ نئی کانگریس جنوری میں کام شروع کرے گی، اور اس کے پہلے 100 گھنٹوں میں ڈیموکریٹس کے منصوبے واضح ہو جائیں گے۔

امریکی سیاست میں یہ انتخابات ایک موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کی دوسری مدت کے آخری دو سال اب تقسیم شدہ حکومت کے تحت گزریں گے۔ ووٹروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مہنگائی، جنگ اور اپنی زندگی پر ٹیکنالوجی کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اس کا اثر صرف امریکہ پر نہیں، بلکہ دنیا بھر کی معیشت اور سیاست پر بھی پڑے گا، جیسا کہ عالمی منڈیوں میں گراوٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔

ٹیگز:امریکی مڈٹرم انتخابات 2026ڈیموکریٹسڈونلڈ ٹرمپامریکی کانگریسUS midterm elections 2026مارکو روبیوایران جنگاے آئی ڈیٹا سینٹرز
← تمام خبریں دیکھیں