
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی — صدر نے کابینہ کی سفارش پر منظوری دی، گورنر مشاورتی کونسل کے ساتھ انتظامی امور سنبھالیں گے۔
اہم نکات
- صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا
- گورنر فیصل کریم کنڈی وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کریں گے، ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے
- 4 نومبر کے وفاقی حکم نامے کے تحت گورنر ہر ماہ وفاقی حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے اور آرٹیکل 140 اے پورے صوبے میں معطل کر دیا گیا
- آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی
- وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ طور پر الگ ہو گئی تھی، جبکہ تحریک انصاف اسے سیاسی اقدام قرار دیتی ہے
- الیکشن کمیشن نے صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دی ہیں
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر اس کی منظوری دی۔ یہ اعلان 11 اکتوبر 2026 کو سامنے آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی صوبے میں گورنر راج بھی نافذ کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کی منتخب حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جس سے صوبے کے انتظامی ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی آ گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق صوبے کے گورنر انتظامی امور سنبھالیں گے اور ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے۔ یہ انتظام ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہوگا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر صوبے کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جایا جائے گا۔
وزیراعظم کے دفتر کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ طور پر الگ ہو گئی تھی۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں میں تعاون نہیں کیا اور اس کی پالیسیوں کے باعث شدت پسندوں کو کام کرنے کی گنجائش ملی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اکتوبر کے اوائل میں ہونے والے مذاکرات میں صوبائی فریق نے ایک تحریری سیکیورٹی پیکج پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن آخری مرحلے پر ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبے میں پارٹی صدر سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کو ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد حراست میں لیا گیا اور پارٹی کو ان کے ٹھکانے اور حالت کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ سہیل آفریدی 13 اکتوبر 2025 کو 145 رکنی صوبائی اسمبلی میں 90 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے اور 15 اکتوبر 2025 کو گورنر کنڈی نے ہی ان سے عہدے کا حلف لیا تھا۔
یہ صوبہ تحریک انصاف کے زیر انتظام ہے، جس کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہیں۔ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال گزشتہ ہفتوں سے کشیدہ تھی۔ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے تحریک انصاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اکتوبر 2026 کے اوائل میں لکی مروت سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا تھا، اور ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل 3 اکتوبر کو وفاقی حکومت سے ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔
ایمرجنسی آئین کی ان دو شقوں کے تحت لگائی گئی ہے جو سیکیورٹی سے متعلق ہیں۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے تحت یہ اعلان جاری کیا۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اس وقت لگائی جا سکتی ہے جب ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی کشیدگی سے سنگین خطرہ ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے بس میں نہ رہے۔ آرٹیکل 234، جسے عام طور پر گورنر راج کہا جاتا ہے، اس صورت میں لاگو ہوتا ہے جب گورنر کی رپورٹ پر صدر اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔
ایمرجنسی کا اعلان کب اور کیسے ہوا؟
11 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے صدارتی اعلان کے بعد صوبے میں فوج تعینات کر دی گئی اور پشاور میں موبائل فون سروس بند کر کے ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا۔ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کو فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ گورنر کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر وفاق نے گورنر کو صوبائی حکومت کے امور چلانے کا اختیار دے دیا۔
اس کے بعد 4 نومبر 2026 کو وفاقی حکومت کا حکم نامہ نمبر 3 جاری کیا گیا، جسے گزٹ آف پاکستان میں شائع کیا گیا۔ اس حکم نامے کے تحت گورنر آئین، صوبائی قوانین اور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے تحت وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کریں گے اور ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے۔ اسی حکم نامے کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 140 اے کی معطلی کو صوبے کے باقی اضلاع تک بھی بڑھا دیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے 4 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس منتقلی کی منظوری دی تھی۔
وفاقی کابینہ کے اسی اجلاس میں خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کی منظوری بھی دی گئی، جس میں سیکیورٹی کو ترجیح دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ایندھن کی سبسڈی کا پروگرام دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ صوبے کے 12 اضلاع کے انتظامی معاملات کے لیے ایک الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جس کے ساتھ علاقائی نمائندے اور ترقیاتی کونسل کا نظام بھی بنایا گیا ہے۔
آئین کیا کہتا ہے؟ آرٹیکل 232 اور 234 میں کیا فرق ہے؟
پاکستان کے آئین کے دسویں باب میں ہنگامی حالات سے متعلق دفعات درج ہیں، جو آرٹیکل 232 سے 237 تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں تین طرح کی ایمرجنسی کا ذکر ہے: جنگ یا اندرونی کشیدگی کی صورت میں ایمرجنسی، جو آرٹیکل 232 کے تحت لگتی ہے؛ صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی پر گورنر راج، جو آرٹیکل 234 کے تحت آتا ہے؛ اور مالی ایمرجنسی، جس کا ذکر آرٹیکل 235 میں ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا دس روز کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری درکار ہوتی ہے، ورنہ ایمرجنسی ختم ہو جاتی ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صدر گورنر کی رپورٹ پر مطمئن ہو کر اعلان جاری کر سکتے ہیں، جس کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات صدر یا گورنر سنبھال سکتے ہیں اور صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمان کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، صدر یا گورنر ہائی کورٹ کے اختیارات نہیں سنبھال سکتے۔
آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 232 کا تعلق سلامتی کے خطرات سے ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کا تعلق آئینی نظام کے ٹوٹنے سے ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی ابتدائی مدت دو ماہ ہوتی ہے اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی منظوری سے اس میں دو دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی مجموعی مدت کسی صورت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے البتہ کہا ہے کہ ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے نافذ کی گئی ہے، نہ کہ صرف چھ ماہ کے لیے، جس پر آئینی بحث جاری ہے۔
ایمرجنسی کے اعلان کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کا سوال بھی اہم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 236 کی شق دو کے مطابق آئین کے دسویں باب کے تحت جاری کسی اعلان کی درستگی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے پیر صابر شاہ بنام وفاق پاکستان کے مقدمے میں قرار دیا تھا کہ اگر کوئی اعلان قانونی اختیار کے بغیر یا بدنیتی سے جاری کیا گیا ہو تو اس کی عدالتی جانچ ممکن ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق وزیراعلیٰ، اسپیکر اور ایک رکن اسمبلی سے متعلق مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کتنی خراب ہے؟
صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال گزشتہ دو برسوں میں نمایاں طور پر خراب ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں قائم آزاد تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں 680 حملے ہوئے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 508 تھی۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 63 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔
کابینہ کو پیش کی گئی سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق مارچ 2024 سے ستمبر 2026 کے درمیان دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ 2026 میں ہونے والے حملوں میں سے 73 فیصد کا ہدف پولیس اور سیکیورٹی ادارے تھے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملوں کا رجحان بھی سامنے آیا ہے، جو 2024 میں رپورٹ نہیں ہوئے تھے لیکن 2026 میں ان کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ رپورٹس میں 9 ہزار سے زائد خالی پولیس آسامیوں اور انسداد دہشت گردی کے محکمے میں عملے کی کمی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافہ صورتحال کی خرابی کی مرکزی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس گروپ نے افغان سرحد کے قریب اضلاع میں اپنی کارروائیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ پولیس اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملے آباد علاقوں میں بھی جاری ہیں۔ ستمبر 2026 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس چوکی پر خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے، جبکہ کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب دھماکے میں 22 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے۔
صوبے میں صحت کی صورتحال بھی توجہ طلب ہے۔ رواں سال خیبر پختونخوا سے پولیو کے سات کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے تین کا تعلق خیبر ضلع سے ہے۔ پاکستان میں پولیو کے نویں کیس کے بعد وزیراعظم نے تمام صوبوں کے دورے اور ایک ہفتے میں مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے بھی جاری ہیں، جس سے صحت کی مہمات متاثر ہو رہی ہیں۔
بلدیاتی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا؟
ایمرجنسی کے نفاذ کا ایک اہم اثر بلدیاتی انتخابات پر پڑا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دی ہیں۔ کمیشن نے 5 نومبر کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی حکومت کے حکم نامے پر غور کیا، جس کے بعد تمام تیاریاں اگلے حکم تک معطل کر دی گئیں۔
آئین کا آرٹیکل 140 اے صوبوں میں منتخب بلدیاتی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے، اور اسی شق کی معطلی کے باعث بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک اسے واپس نہ لیا جائے، ایمرجنسی ختم نہ ہو جائے یا عدالت اسے کالعدم قرار نہ دے دے۔ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے، لیکن ایمرجنسی کے دوران یہ عمل رک گیا ہے۔
مختلف فریقوں کا ردعمل کیا ہے؟
تحریک انصاف نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری پر حملہ اور سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے طاقت کے ذریعے ایک منتخب صوبائی حکومت کو ہٹایا ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی رہائی کی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ عمران خان نے خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔
دوسری طرف وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد حاصل ہونے تک برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ساتھ فی الحال باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم بیک ڈور رابطے ضرور جاری ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج سے اختلاف کیا ہے، جس پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ انہیں اختلاف رائے کا پورا حق حاصل ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ایمرجنسی غیر معمولی حالات میں نافذ کی گئی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر صوبے کو امن، استحکام اور ترقی کی طرف لے جایا جائے گا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کا جلد خاتمہ کر دیا جائے گا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، لیکن صوبے کی سیاسی صورتحال پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
ماضی میں گورنر راج کی مثالیں
پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ پرانی ہے۔ پہلی بار مغربی پنجاب میں 25 جنوری 1949 کو گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جو اپریل 1951 تک جاری رہا۔ اس کے بعد سب سے زیادہ زیر بحث مثال فروری مارچ 2009 کی ہے، جب صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا تھا۔ اس وقت گورنر سلمان تاثیر نے صوبے کی انتظامیہ سنبھالی تھی، صوبائی اسمبلی معطل نہیں کی گئی تھی اور ایک ماہ بعد گورنر راج ختم کر دیا گیا تھا۔
نومبر 2007 میں جنرل پرویز مشرف نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کی تھی، جو 15 دسمبر 2007 تک جاری رہی اور اس دوران آئین معطل رہا۔ خیبر پختونخوا میں 2026 کا اقدام اس لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج دونوں ایک ساتھ نافذ کیے گئے ہیں۔
عام شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
عام شہریوں کے لیے اس انتظام کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کے روزمرہ انتظامی امور اب گورنر اور ان کی مشاورتی کونسل چلائیں گے۔ سرکاری محکمے، پولیس اور انتظامیہ اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے، لیکن اہم فیصلے گورنر کی سربراہی میں ہوں گے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج مختص کیا گیا ہے، جس سے صوبے میں ترقیاتی کاموں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ ایندھن کی سبسڈی دسمبر کے آخر تک جاری رہے گی، جس سے عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے۔
آگے کیا ہوگا، اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو گورنر راج کی توثیق کرنا ہوگی، اور عدالتوں میں اس اقدام کو چیلنج کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔ اگر سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور وفاقی حکومت اپنے مقاصد حاصل کر لیتی ہے تو گورنر راج ختم کر کے منتخب حکومت بحال کی جا سکتی ہے۔

