
پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر
رواں سال پولیو کا نواں کیس خیبر ضلع سے سامنے آیا — وزیراعظم نے ایک ہفتے میں مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔
اہم نکات
- سات ماہ کا بچہ متاثر: خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ، یونین کونسل مستک سے نواں کیس
- رواں سال 9 کیسز: خیبر پختونخوا سے 7، سندھ سے 2؛ خیبر ضلع سے تیسرا کیس
- وائرس کا تعلق افغانستان سے: وہاں رواں سال 50 کیسز، سرحد پار منتقلی جاری
- مہم جاری: 2 تا 8 نومبر، 97 اضلاع میں 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کا ہدف؛ پہلے 3 دن میں 1 کروڑ 96 لاکھ بچوں کو قطرے
- حملے جاری: مہمند میں 2 پولیس اہلکار شہید، ٹانک میں 4 کارکن اغوا
- 1990 کی دہائی کے 20 ہزار کیسز سے کمی ہو کر 9 رہ گئی — 99.8 فیصد کمی
پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس رپورٹ ہوا ہے۔ خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے سات ماہ کے بچے میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کی بڑی مہم جاری ہے، اور وزیراعظم نے ایک ہفتے میں مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مضمون میں نئے کیس کی تفصیل، وائرس کے افغانستان سے تعلق، جاری مہم کی پیش رفت اور پولیو ٹیموں پر حملوں کے بارے میں مکمل معلومات دی جا رہی ہیں۔
نئے کیس کی تصدیق اسلام آباد میں قائم پولیو کے خاتمے کی علاقائی ریفرنس لیبارٹری نے کی ہے۔ متاثرہ بچہ خیبر ضلع کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل مستک کا رہنے والا سات ماہ کا لڑکا ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق یہ رواں سال خیبر ضلع سے تیسرا اور خیبر پختونخوا سے ساتواں کیس ہے۔ اس سے صرف چار روز پہلے، یکم نومبر کو، ملک کا آٹھواں کیس بھی اسی ضلع سے رپورٹ ہوا تھا، جس میں باڑہ کی 13 ماہ کی لڑکی متاثر ہوئی تھی۔
نئے کیس کی تفصیل اور صوبوں کی صورتحال
رواں سال کے نو کیسز میں سے سات خیبر پختونخوا سے اور دو سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سات کیسز میں تین خیبر ضلع سے، تین بنوں سے اور ایک شمالی وزیرستان سے ہے۔ سندھ کے دو کیسز میں سے ایک کراچی ایسٹ اور دوسرا سجاول ضلع سے رپورٹ ہوا۔ یہ تقسیم بتاتی ہے کہ وائرس ملک کے مخصوص علاقوں میں گردش کر رہا ہے، جہاں ویکسینیشن کی رسائی اور نگرانی سب سے زیادہ ضروری ہے۔
خیبر ضلع میں ایک ہی سال میں تین کیسز سامنے آنا تشویش کی بات ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس وہاں مقامی سطح پر موجود ہے اور بچوں تک پہنچ رہا ہے۔ سات ماہ کے بچے کا متاثر ہونا اس لیے بھی اہم ہے کہ اس عمر میں بچہ مکمل حفاظتی خوراکیں حاصل نہیں کر چکا ہوتا، اس لیے وہ زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کیس کے بعد متعلقہ علاقے میں مکمل تحقیق کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وائرس کہاں سے آیا اور کن بچوں تک پہنچا ہوگا۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے تحت ہر کیس کو ایک وبا کی علامت سمجھتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی ملک میں پولیو فالج کا ایک بھی مصدقہ کیس وبا کا ثبوت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں کیسز کم ہوں۔ اس لیے نو کیسز کی تعداد کم لگنے کے باوجود حکام اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔
وائرس کا افغانستان سے تعلق
قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق خیبر ضلع کے تینوں کیسز میں پائے جانے والے وائرس کا تعلق افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے ہے۔ افغانستان میں رواں سال 50 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو ایک شدید وبا کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ جینیاتی تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ وائرس سرحد پار آ جا رہا ہے، اور اسی لیے دونوں ملکوں میں مہم ایک ساتھ چلائی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے صرف دو ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی پایا جاتا ہے۔ باقی دنیا میں یہ وائرس ختم ہو چکا ہے۔ سرحد کے دونوں طرف لوگوں کی آمد و رفت بہت زیادہ ہے، اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے خاندان اکثر دونوں طرف آتے جاتے ہیں۔ اس لیے ایک ملک میں وائرس کا خاتمہ دوسرے ملک کے بغیر ممکن نہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام نے سرحدی علاقوں میں مربوط مہم پر اتفاق کیا ہے تاکہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
افغانستان میں 50 کیسز کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سرحدی اضلاع میں خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ خیبر، بنوں اور شمالی وزیرستان — تینوں سرحد کے قریب ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی، نگرانی اور وائرس کی جانچ کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں مہم جاری ہے
ملک بھر میں 2 سے 8 نومبر تک سات روزہ خصوصی مہم جاری ہے، جس کا ہدف 97 خطرے والے اضلاع میں تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔ مہم کے پہلے تین روز میں ایک کروڑ 96 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ یہ مہم گھر گھر جا کر چلائی جا رہی ہے، اور ٹیمیں ہر گھر میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو قطرے پلا رہی ہیں۔
اس بڑی مہم سے پہلے پشاور بلاک کی 78 یونین کونسلز میں 26 سے 31 اکتوبر تک انجکشن والی پولیو ویکسین کی خصوصی مہم بھی چلائی گئی تھی، جس میں دس سال تک کے تقریباً 8 لاکھ 29 ہزار بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ قطرے والی ویکسین کے ساتھ انجکشن والی ویکسین اس لیے دی جاتی ہے تاکہ بچوں کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وائرس گردش کر رہا ہو۔
مہم کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کوئی بچہ چھوٹ نہ جائے۔ ٹیمیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں، اور جن گھروں میں بچے نہیں ملتے، وہاں دوبارہ جانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ والدین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو گھر پر رکھیں اور ٹیموں سے تعاون کریں۔ اگر کسی وجہ سے ٹیم نہ پہنچے تو قریبی صحت مرکز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت اور مربوط حکمت عملی
وزیراعظم شہباز شریف نے پولیو کے خاتمے سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام صوبوں کے دورے اور ایک ہفتے میں مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبر ضلع میں نیا کیس سامنے آنے سے ملک میں رواں سال کیسز کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ وزیراعظم نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اپنی حکمت عملی ایک ہفتے میں تیار کریں تاکہ مہم کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔
یہ ہدایت اس لیے اہم ہے کہ پولیو کا خاتمہ صرف وفاقی حکومت کے بس کی بات نہیں — صوبوں، ضلعی انتظامیہ اور مقامی صحت کے عملے کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے۔ ہر صوبے کی صورتحال مختلف ہے: کہیں رسائی کا مسئلہ ہے، کہیں سیکیورٹی کا، اور کہیں والدین کو قائل کرنے کا۔ مربوط حکمت عملی کا مطلب ہے کہ ہر صوبہ اپنی ضروریات کے مطابق منصوبہ بنائے، لیکن قومی سطح پر نگرانی اور رابطہ ایک جیسا رہے۔
پاکستان پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں کئی دہائیاں لگا چکا ہے۔ اس مہم میں ہزاروں کارکن شامل ہیں، اور ہر مہم میں لاکھوں بچوں تک پہنچا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے اجلاس سے یہ پیغام گیا ہے کہ حکومت اس معاملے کو ترجیح دے رہی ہے اور کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پولیو کیا ہے اور یہ بچوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
پولیو ایک انتہائی متعدی وائرس کی بیماری ہے جو بنیادی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے، آنتوں میں بڑھتا ہے اور پھر اعصابی نظام پر حملہ کر سکتا ہے۔ زیادہ تر متاثرہ افراد میں کوئی علامت نہیں ہوتی یا ہلکی بیماری ہوتی ہے، لیکن ہر 200 میں سے ایک متاثرہ شخص کو ناقابل واپسی فالج ہو جاتا ہے، عام طور پر ٹانگوں میں۔ فالج کا شکار ہونے والوں میں سے 5 سے 10 فیصد اس وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں جب ان کے سانس کے عضلات مفلوج ہو جائیں۔
پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے — اس سے صرف بچاؤ ممکن ہے۔ پولیو ویکسین کئی بار دینے سے بچہ زندگی بھر کے لیے محفوظ ہو سکتا ہے۔ دو قسم کی ویکسین موجود ہیں: منہ سے دیے جانے والے قطرے اور انجکشن والی ویکسین۔ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: بچے کے جسم میں وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنا۔ ویکسین کی مکمل خوراکیں لینا ضروری ہے، کیونکہ ایک آدھ خوراک مکمل تحفظ نہیں دیتی۔
عالمی سطح پر پولیو کے خلاف جنگ 1988 میں شروع ہوئی تھی، جب عالمی ادارہ صحت کی اسمبلی نے اس کے خاتمے کی قرارداد منظور کی۔ اس وقت دنیا بھر میں 125 سے زائد ملکوں میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کیسز تھے۔ آج جنگلی پولیو وائرس کے کیسز میں 99 فیصد سے زیادہ کمی آ چکی ہے، اور صرف دو ملک — پاکستان اور افغانستان — ایسے ہیں جہاں یہ وائرس اب بھی مقامی طور پر پایا جاتا ہے۔ جنگلی پولیو وائرس کی دو اقسام ختم ہو چکی ہیں، اور صرف ٹائپ ون باقی ہے۔
پاکستان کی اپنی پیش رفت بھی قابل ذکر ہے۔ ملک میں 1990 کی دہائی کے شروع میں تقریباً 20 ہزار کیسز ہوتے تھے۔ اب یہ تعداد کم ہو کر 2024 میں 74، 2025 میں 31 اور 2026 میں اب تک 9 رہ گئی ہے۔ یہ 99.8 فیصد کمی ہے۔ لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب تک وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، ایک بھی کیس کا مطلب ہے کہ وائرس اب بھی گردش کر رہا ہے اور کسی بھی وقت واپس آ سکتا ہے۔ اسی لیے آخری مرحلہ سب سے مشکل ہوتا ہے۔
پولیو ٹیموں پر حملے: مہم کی سب سے بڑی رکاوٹ
پولیو مہم کی سب سے بڑی رکاوٹ بیماری نہیں بلکہ تشدد ہے۔ رواں ہفتے پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملے جاری رہے۔ منگل کو مہمند ضلع میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر جانے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوا، جس میں دو پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔ اسی روز ٹانک ضلع میں چار پولیو کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا۔ یہ واقعات چار روزہ مربوط مہم کے پہلے دن پیش آئے، جس میں صوبے کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف تھا۔
اس کے بعد بدھ کو جمرود سے پولیو مہم کے سپروائزر جلیل خان کو بھی اغوا کر لیا گیا۔ اس سے پہلے لوئر جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک علاقے میں دو پولیو کارکنوں کو اغوا کیا گیا تھا، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ ایک ہی ہفتے میں ایک سپروائزر کا اغوا، دو پولیس اہلکاروں کی شہادت اور چار کارکنوں کا اغوا — یہ سلسلہ بتاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیمیں کس خطرے میں کام کر رہی ہیں۔
اعداد و شمار اس خطرے کی سنگینی بتاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 سے اب تک خیبر پختونخوا میں پولیو کارکنوں پر کم از کم 47 حملے ہو چکے ہیں، جن میں 9 افراد مارے گئے، 7 زخمی ہوئے اور 15 سے زائد کو اغوا کیا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے گروہ پہلے بھی پولیو ٹیموں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، اور وہ ویکسینیشن مہم کے بارے میں غلط دعوے پھیلاتے ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
ان حملوں کا اثر صرف ٹیموں تک محدود نہیں۔ جب ٹیمیں کسی علاقے میں نہیں جا سکتیں تو وہاں کے بچے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں، اور وائرس کو پھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی لیے حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت مہم کی کامیابی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی ویکسین خود۔ ٹیموں کے ساتھ پولیس کی حفاظت کا انتظام اسی لیے کیا جاتا ہے۔
والدین کیا کریں؟
والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔ ایک بار قطرے پلانا کافی نہیں — ہر مہم میں بچے کو قطرے پلانے سے اس کی قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ بچے کا حفاظتی کارڈ سنبھال کر رکھیں اور اس پر درج خوراکوں کی تاریخ چیک کریں۔ اگر کوئی خوراک رہ گئی ہو تو قریبی صحت مرکز سے رابطہ کریں۔
اگر آپ کے علاقے میں مہم چل رہی ہے تو بچوں کو گھر پر رکھیں اور ٹیموں کا استقبال کریں۔ اگر ٹیم آپ کے گھر نہ آئے تو خود قریبی مرکز جا کر قطرے پلوائیں۔ اور اگر کسی بچے میں اچانک کمزوری یا فالج کی علامت نظر آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں — جلد تشخیص سے نہ صرف اس بچے بلکہ آس پاس کے بچوں کو بھی بچایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے حکام کو وائرس کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔
والدین کو ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں بچوں کو دی جا چکی ہے۔ اس کے بارے میں جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔ اپنے بچوں کی صحت کا فیصلہ ڈاکٹروں اور صحت کے حکام کی بات سن کر کریں، نہ کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تعاون، وائرس کی نگرانی اور مہم کی مسلسل نگرانی — یہ تینوں چیزیں مل کر ہی وائرس کو ختم کر سکتی ہیں۔ نو کیسز کی تعداد بتاتی ہے کہ پاکستان منزل کے قریب ہے، لیکن ابھی منزل پر نہیں پہنچا۔ آخری مرحلے میں ذرا سی غفلت بھی برسوں کی محنت ضائع کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں ملکوں میں وائرس کی منتقلی مکمل طور پر نہیں رکتی، مہم جاری رکھنی ہوگی۔ ہر مہم میں 24 ملین بچوں تک پہنچنا ایک بہت بڑا کام ہے، اور اس میں ہزاروں کارکن، پولیس اہلکار اور رضاکار شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کی حفاظت اور والدین کا تعاون ہی اس مہم کو کامیاب بنا سکتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی پولیو سے پاک ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔ صحت کی مزید خبروں کے لیے مردوں اور خواتین کی عمر کے فرق پر تحقیق بھی پڑھی جا سکتی ہے، اور خیبر پختونخوا کی صورتحال کے بارے میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی خبر بھی دستیاب ہے۔
