
مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں
دنیا بھر میں خواتین مردوں سے تقریباً 5 سال زیادہ جیتی ہیں — دی لینسیٹ کی تحقیق میں جینیات، سگریٹ نوشی، ڈاکٹر سے تاخیر اور سماجی تنہائی سمیت حیران کن وجوہات سامنے آگئیں۔
اہم نکات
- عالمی فرق: 2023 میں خواتین کی اوسط عمر 76.3 سال، مردوں کی 71.5 سال — 4.8 سال کا فرق
- برطانیہ: خواتین 83 سال، مرد 79.1 سال؛ علاقوں کے درمیان 10 سال تک کا فرق
- جینیات: خواتین کے دو ایکس کروموسوم اضافی تحفظ دیتے ہیں؛ مدافعتی نظام بھی مضبوط
- سماجی تنہائی: تنہا مردوں میں موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ، خواتین میں 25 فیصد
- مرد 16 فیصد زیادہ صحت مند زندگی کے سال کھوتے ہیں؛ خواتین زیادہ جیتی ہیں مگر زیادہ بیمار رہتی ہیں
دنیا بھر میں ہونے والی طبی اور آبادیاتی تحقیقات ایک طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار بھی اس فرق کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ نئی تحقیق نے اس کے پیچھے موجود حیاتیاتی، معاشرتی اور طرز زندگی سے جڑے عوامل کو مزید نمایاں کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر مرد خواتین کے مقابلے میں کم عمر کیوں پاتے ہیں؟ اور کیا اس فرق کو کم کیا جا سکتا ہے؟
دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی عالمی تحقیق میں 204 ممالک اور علاقوں کے 1950 سے 2023 تک کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دی لینسیٹ کی مردوں کی صحت پر تین مضامین پر مشتمل سیریز اور برطانیہ کی یو کے بائیو بینک کی ایک بڑی تحقیق نے بھی اس موضوع پر نئی روشنی ڈالی ہے۔
اعداد کیا کہتے ہیں؟
عالمی سطح پر فرق صاف نظر آتا ہے۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز کی تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں خواتین کی اوسط عمر 76.3 سال اور مردوں کی 71.5 سال تھی، یعنی تقریباً 4.8 سال کا فرق۔ 1950 میں عالمی اوسط عمر مردوں کی 48.1 سال اور خواتین کی 52.9 سال تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ پچھلے 70 برسوں میں دونوں کی عمر میں 20 سال سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، لیکن خواتین اور مردوں کے درمیان فرق اب بھی قائم ہے۔
برطانیہ کے سرکاری ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعداد کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران پیدا ہونے والے بچوں میں لڑکیوں کی اوسط عمر 83 سال اور لڑکوں کی 79.1 سال متوقع ہے۔ یہ فرق تقریباً 4 سال کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں مردوں اور خواتین کی عمر کا فرق 1980 کی دہائی میں 6 سال تھا، جو 2012 سے 2014 تک کم ہو کر 3.7 سال رہ گیا تھا، لیکن اب پھر تھوڑا بڑھ کر 3.9 سال ہو گیا ہے۔
امریکہ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ امریکی ادارہ صحت کے مطابق 2024 میں پیدا ہونے والے لڑکوں کی متوقع عمر 76.5 سال اور لڑکیوں کی 81.4 سال تھی، یعنی 4.9 سال کا فرق۔ دی لینسیٹ کی تازہ سیریز کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں مردوں نے خواتین کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ صحت مند زندگی کے سال بیماری اور جلد موت کی وجہ سے کھوئے۔
یہ فرق ہر جگہ یکساں نہیں۔ برطانیہ کے اندر ہی علاقوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے: ہارٹ میں پیدا ہونے والے لڑکوں کی اوسط عمر 83.7 سال ہے، جبکہ بلیک پول میں صرف 73.7 سال — پورے 10 سال کا فرق۔ لڑکیوں میں یہ فرق 8.4 سال ہے، کینزنگٹن اور چیلسی میں 87.1 سال جبکہ گلاسگو میں 78.7 سال۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمر کا فرق صرف جنس کا نہیں، بلکہ آمدنی، علاقے اور معیار زندگی کا بھی معاملہ ہے۔
جینیات اور جسم کا فرق
تحقیق کے مطابق مردوں کی صحت کو درپیش بعض خطرات کا تعلق ان کے جینیاتی نظام سے بھی ہے، تاہم ماہرین کے خیال میں مردوں اور خواتین کی اوسط عمر کے فرق میں اس کا کردار اتنا بڑا نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ پھر بھی جینیات کا حصہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم ہوتا ہے۔ خواتین میں موجود دوسرا ایکس کروموسوم بعض موروثی بیماریوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے، کیونکہ اگر ایک کاپی میں کوئی خرابی ہو تو دوسری کاپی کام آ سکتی ہے۔ مردوں کے پاس یہ اضافی تحفظ نہیں ہوتا۔
مدافعتی نظام کا فرق بھی اہم ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین عام طور پر انفیکشنز اور ویکسین کے خلاف مردوں سے زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے مرد بعض انفیکشنز کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں، اور ماہرین کے مطابق کووڈ 19 اور ٹی بی سے مردوں کی زیادہ اموات میں مدافعتی نظام کا فرق بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مردوں میں خواتین کے مقابلے میں کم اوسط عمر کی وضاحت صرف جینز یا ہارمونز سے نہیں کی جا سکتی۔
ایک اور حیاتیاتی عنصر خلیوں کے سرے یعنی ٹیلومیر ہیں۔ 36 ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے ایک تجزیے میں معلوم ہوا کہ خواتین کے ٹیلومیر اوسطاً مردوں سے تھوڑے لمبے ہوتے ہیں۔ ٹیلومیر خلیوں کی عمر سے جڑے ہوتے ہیں، اور ان کا چھوٹا ہونا بڑھاپے کی بیماریوں سے منسلک ہے۔ جینیات ایک بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن اصل فرق طرز زندگی اور معاشرتی رویوں سے پیدا ہوتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ فرق پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں اور ان کی پہلے سال میں موت کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، طرز زندگی اور معاشرتی عوامل کا کردار بڑھتا جاتا ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں تبدیلی ممکن ہے۔
طرز زندگی: سگریٹ، شراب اور خطرناک عادات
تحقیق میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی، روزگار کے مواقع اور علاج معالجے تک رسائی جیسے عوامل کو زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے۔ مردوں نے تاریخی طور پر خواتین سے زیادہ سگریٹ پی ہے، اور جیسے جیسے سگریٹ نوشی کم ہوئی، عمر کا فرق بھی کچھ کم ہوا۔ 2015 میں دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت سگریٹ کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سگریٹ دل کی بیماری، پھیپھڑوں کے کینسر اور سانس کی دائمی بیماریوں کا بڑا سبب ہے، اور یہی بیماریاں مردوں میں جلد موت کی بڑی وجوہات ہیں۔
دل کی بیماری اس کی واضح ترین مثال ہے۔ دل کی شریانوں کی بیماری دنیا بھر میں مردوں میں جلد موت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 30 سالہ مرد کو اسی عمر کی عورت کے مقابلے میں 70 سال کی عمر سے پہلے غیر متعدی بیماری سے مرنے کا 44 فیصد زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سڑک کے حادثات، خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی مردوں میں زیادہ ہوتے ہیں، جو ان کی اوسط عمر کو کم کرتے ہیں۔
شراب اور منشیات کی عادات بھی مردوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اگرچہ یہ عادات مرد و خواتین دونوں کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، لیکن محققین کے مطابق بعض معاشروں میں یہ مردوں کی سماجی زندگی اور میل جول کا زیادہ نمایاں حصہ بن چکی ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمباکو اور شراب بنانے والی کمپنیاں بعض اوقات کم آمدنی والے طبقوں اور مخصوص مردوں کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے ذریعے ہدف بناتی ہیں۔ دی لینسیٹ کی تازہ سیریز میں کہا گیا ہے کہ ایسی تجارتی سرگرمیاں مردوں کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
فلموں اور تفریحی ذرائع میں مردانہ کردار کو اکثر طاقتور اور خطرناک عادات والا دکھایا جاتا ہے، جس سے مردانگی کا ایک ایسا تصور فروغ پاتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر موجود بعض گروپس مردوں کو طاقت اور ہر مسئلے کا خود مقابلہ کرنے کا تصور دیتے ہیں۔ ان آن لائن حلقوں کو مجموعی طور پر مینوسفیئر کہا جاتا ہے، اور دی لینسیٹ کی سیریز کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اسے صحت عامہ کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔
ڈاکٹر کے پاس جانے میں تاخیر
بیماری کی علامات چھپانا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ مردوں میں صحت کے مسائل کو نظرانداز کرنے اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کا رجحان بھی تشویش کا باعث ہے۔ بعض مرد اپنی بیماری یا جسمانی مسائل پر بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مرض کی تشخیص اور علاج میں دیر ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مردوں میں ایک ہی بیماری ہونے کے باوجود خواتین کے مقابلے میں صحت کی سہولتوں سے کم استفادہ کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے وابستہ پروفیسر جیمز کیٹو کے مطابق، بعض مرد پروسٹیٹ کینسر کے معائنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ انہیں طبی معائنے کے طریقہ کار پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح پیشاب یا جنسی صحت سے متعلق مسائل پر بھی وہ کھل کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مردوں کو اپنی بیماریوں اور پریشانیوں پر کھل کر بات کرنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ خواتین میں کسی بیماری کی تشخیص ہونے پر اکثر دوسری خواتین کی جانب سے ہمدردی اور مدد کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن مردوں کو ہمیشہ اسی طرح کی سماجی حمایت نہیں ملتی۔
یہ تاخیر صرف شرمندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ کئی مرد یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس جانا کمزوری کی علامت ہے، یا وہ کام سے چھٹی نہیں لے سکتے۔ بعض اوقات علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اور جب بیماری بڑھ جاتی ہے تو علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماری، کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں میں جلد تشخیص سے زندگی بچ سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف مردوں کے رویے میں تبدیلی نہیں، بلکہ صحت کے نظام میں بھی تبدیلی ہے۔ اسپتالوں اور کلینکوں کو مردوں کے لیے زیادہ آسان رسائی بنانی چاہیے، اور آگاہی مہموں میں مردوں کے مخصوص مسائل کو اہمیت دینی چاہیے۔ پروسٹیٹ کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے کام کرنے والے اداروں اور فٹ بال کلبوں کی کوششوں سے مردوں کو اپنی صحت کے مسائل پر بات کرنے کی ترغیب مل رہی ہے۔
غربت، بے روزگاری اور سماجی تنہائی
تحقیق میں معاشی حالات کو بھی مردوں کی صحت اور اوسط عمر پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ غربت اور بے روزگاری مردوں کو خاص طور پر متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ بہت سے معاشروں میں مرد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مضبوط رہے، اپنے مسائل خود حل کرے اور خاندان کی مالی ذمہ داریاں اٹھائے۔ جب کوئی مرد بے روزگاری یا مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو یہ توقعات اس کے ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ بچپن سے دیکھے جانے والے مردانہ کردار اور معاشرتی روایات بھی اس سوچ کو مضبوط کرتی ہیں۔
دی لینسیٹ کی سیریز کے ایک مصنف پروفیسر وٹل کٹی کریڈی کے مطابق، مردوں کی خراب صحت کے نتائج سب سے زیادہ ان مردوں میں پائے جاتے ہیں جو غربت کا سامنا کر رہے ہیں۔ نوکری اور تعلیم بھی اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ مرد کتنی عمر پاتے ہیں اور کتنے سال بیمار رہتے ہیں۔ جیل جانا اور بے گھر ہونا بھی اس فرق کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مردوں کی صحت کا مسئلہ صرف طب کا نہیں، بلکہ معاشی انصاف کا بھی معاملہ ہے۔
تحقیق میں سماجی تنہائی کو بھی مردوں کی قبل از وقت موت کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ خاندان، دوستوں اور دیگر قریبی افراد سے رابطہ کم ہونے کے باعث مرد ذہنی دباؤ اور دیگر صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے 2025 میں کی گئی ایک بڑی تحقیق میں برطانیہ کے 3 لاکھ 22 ہزار 558 افراد کا تقریباً 12 سال تک جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق سماجی طور پر تنہا مردوں میں موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ تھا، جبکہ تنہا خواتین میں یہ خطرہ 25 فیصد زیادہ پایا گیا۔
اس تحقیق کی ایک اہم تفصیل یہ ہے کہ مردوں میں تنہائی کا احساس بذات خود موت کے خطرے سے منسلک نہیں تھا، بلکہ سماجی طور پر الگ تھلگ رہنا خطرناک تھا — یعنی کسی سے ملنا جلنا نہ ہونا اور کسی گروہ کا حصہ نہ ہونا۔ دل کی بیماری سے موت کے معاملے میں یہ فرق اور بھی زیادہ تھا: تنہا مردوں میں خطرہ 61 فیصد زیادہ جبکہ خواتین میں 31 فیصد زیادہ تھا۔
عورتیں زیادہ جیتی ہیں مگر زیادہ بیمار رہتی ہیں
اس تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ زیادہ عمر پانا اور صحت مند رہنا ایک ہی بات نہیں۔ دی لینسیٹ پبلک ہیلتھ میں جولائی 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں لوگ 1990 کے مقابلے میں 2023 میں اپنی زندگی کے تقریباً دو سال زیادہ بیمار حالت میں گزار رہے ہیں۔ عالمی اوسط عمر 1990 میں 64.6 سال سے بڑھ کر 2023 میں 73.8 سال ہو گئی، لیکن صحت مند زندگی کی اوسط عمر صرف 55.9 سے بڑھ کر 63.1 سال ہوئی۔ یعنی لوگ زیادہ جی رہے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ سال بیماری میں گزر رہے ہیں۔
خواتین مردوں سے زیادہ جیتی ہیں، لیکن وہ اپنی زندگی کے زیادہ سال بیمار حالت میں بھی گزارتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق خواتین اوسطاً 12 سال بیماری یا معذوری کے ساتھ گزارتی ہیں، جبکہ مرد 9 سال۔ خواتین کی خراب صحت کی بڑی وجوہات میں کمر اور گردن کا درد، خواتین کے مخصوص امراض، ڈپریشن، ذہنی دباؤ، درد شقیقہ، ڈیمنشیا اور ہڈیوں اور پٹھوں کی بیماریاں شامل ہیں۔
محققین اسے صحت اور بقا کا تضاد کہتے ہیں۔ خواتین کے لیے مقصد یہ ہے کہ ان کے اضافی سال فعال اور آرام دہ ہوں، جبکہ مردوں کے لیے مقصد یہ ہے کہ وہ ان سالوں تک پہنچیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صحت کی پالیسیوں میں دونوں کے مسائل الگ الگ دیکھنے چاہئیں — خواتین کے لیے دائمی درد اور ذہنی صحت کی بہتر دیکھ بھال، اور مردوں کے لیے جلد موت کی روک تھام۔
مرد اپنی زندگی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟
محققین کے مطابق مردوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے حکومتوں اور اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صحت کی پالیسیوں میں مردوں کو درپیش مخصوص مسائل کو اہمیت دینا، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کی سہولتوں تک آسان رسائی یقینی بنانا ضروری ہے۔ دی لینسیٹ کی سیریز میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بہت کم حکومتوں کے پاس مردوں کی صحت کے لیے کوئی منصوبہ ہے۔ آئرلینڈ نے 2008 میں دنیا کی پہلی قومی مردوں کی صحت کی پالیسی اپنائی تھی، اور اس کے بعد سے صرف چند ملکوں نے اس کی پیروی کی ہے۔
تاہم انفرادی سطح پر بھی مرد اپنی عادات میں تبدیلی لا کر صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مرد اپنی صحت کو نظرانداز نہ کریں، دوستوں اور خاندان کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھیں، سوشل میڈیا پر کم وقت گزاریں اور جسمانی یا ذہنی مسائل پر بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ کولیسٹرول قابو میں رکھنا، ورزش، خوراک کا خیال اور شراب نوشی میں کمی — یہ چھوٹی تبدیلیاں بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔
