تازہ ترین
• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے• مرد خواتین سے پہلے کیوں مر جاتے ہیں؟ تحقیق میں حیران کن وجوہات سامنے آگئیں• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کو انتظامی اختیارات مل گئے• پیٹرول 9 روپے 41 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی• سندھ طاس معاہدے پر پاکستان تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، خواجہ آصف• پاکستان میں پولیو کا نواں کیس رپورٹ، خیبر سے سات ماہ کا بچہ متاثر• پی سی بی کی 10 ہزار ڈالر این او سی فیس: 16 پاکستانی کھلاڑی ابوظہبی ٹی ٹین 2026 سے محروم ہونے کا خطرہ• سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: نئی اوپننگ جوڑی، تیز وکٹیں اور پاکستان کی بحالی کی کوشش• قائداعظم ٹرافی کا 69 واں ایڈیشن شروع، بابر اور شاہین آمنے سامنے
جمعہ، 6 نومبر 2026 | --:--:-- (پاکستان وقت)

اردو خبرنامہ

تازہ ترین خبریں — پاکستان اور دنیا بھر سے، آپ کی زبان میں
ہوم ← ٹیکنالوجی ← اے آئی ایجنٹ فونز کا نیا دور: زیڈ ٹی ای، اسٹیپ فن اور آنر نے ایپس کی جگہ ذہین ایجنٹ لگا دیے
اے آئی ایجنٹ فونز کا نیا دور: زیڈ ٹی ای، اسٹیپ فن اور آنر نے ایپس کی جگہ ذہین ایجنٹ لگا دیے
ٹیکنالوجی

اے آئی ایجنٹ فونز کا نیا دور: زیڈ ٹی ای، اسٹیپ فن اور آنر نے ایپس کی جگہ ذہین ایجنٹ لگا دیے

فونٹ سائز:

نہ ہوم اسکرین، نہ ایپ اسٹور — زیڈ ٹی ای نیوِکس الٹرا، اسٹیپ ایکس نیو اور آنر کے نئے فونز میں اے آئی ایجنٹ ہی سب کچھ چلائے گا۔ یہ فونز فی الحال صرف چین کے لیے ہیں۔

اہم نکات

  • زیڈ ٹی ای نیوِکس الٹرا: ڈوباؤ ایجنٹ، نہ روایتی ہوم اسکرین نہ ایپ اسٹور، نارنجی بٹن سے ایجنٹ بلایا جاتا ہے
  • اسٹیپ ایکس نیو: ایجنٹ کے لیے بنایا گیا آپریٹنگ سسٹم اسٹیپ اے او ایس، قریب 100 شراکت دار ایپس
  • آنر کا یو یو ایجنٹ میجک او ایس 10 کے ہر ڈیوائس پر؛ روبوٹ فون میں 200 میگا پکسل گمبل کیمرہ
  • سائکلون: پرانے گوگل پکسل پر اے آئی او ایس، 699 ڈالر میں پری آرڈر
  • یہ فونز فی الحال صرف چین کے لیے ہیں؛ ادائیگی اور بینکنگ کی سہولت ابھی محدود ہے

سمارٹ فون کی تاریخ میں ہر چند سال بعد ایک بڑی تبدیلی آتی ہے۔ پہلے ٹچ اسکرین نے بٹنوں والے فون کی جگہ لی، پھر ایپ اسٹور نے فون کو ہزاروں ایپس کا مجموعہ بنا دیا۔ اب 2026 میں چین کی موبائل کمپنیاں ایک اور تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہیں: ایپس کے بجائے ایک ذہین اے آئی ایجنٹ پورا فون چلائے گا۔ صارف کو ایپ کھولنی نہیں پڑے گی، مینیو میں گھومنا نہیں پڑے گا — بس اپنا مقصد بتا دینا ہوگا اور ایجنٹ باقی کام خود کر لے گا۔ زیڈ ٹی ای، اسٹیپ فن اور آنر اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں، اور تینوں نے ایک ہی موسم میں اپنے ایجنٹ فون پیش کیے ہیں۔

ایجنٹ اور عام وائس اسسٹنٹ میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ سری، گوگل اسسٹنٹ یا جیمنائی جیسے اسسٹنٹ سوال کا جواب دیتے ہیں یا ایک آدھا کام کرتے ہیں۔ ایجنٹ اس سے آگے جاتا ہے: وہ کئی مراحل والا کام شروع سے آخر تک خود مکمل کرتا ہے، مثلاً کسی چیز کی قیمت کئی دکانوں پر دیکھ کر سستی والی خریدنا، سفر کی ٹکٹ بک کرنا یا فارم بھرنا۔ اس کے لیے ایجنٹ کو دوسری ایپس کے اندر جا کر بٹن دبانے یا ان سے براہ راست جڑنے کی صلاحیت چاہیے۔

زیڈ ٹی ای نیوِکس الٹرا: ڈوباؤ ایجنٹ اور نارنجی بٹن

زیڈ ٹی ای کے برانڈ نوبیا نے اپنا نیوِکس الٹرا فون شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس میں دکھایا اور اسے دنیا کا پہلا ایجنٹک اے آئی اسمارٹ فون قرار دیا۔ اس فون میں بائٹ ڈانس کا ڈوباؤ اے آئی ایجنٹ سسٹم کی سطح پر شامل ہے، یعنی یہ کسی ایپ کے اندر نہیں بلکہ پورے فون کی بنیاد میں ہے۔ فون میں نہ روایتی ہوم اسکرین ہے اور نہ روایتی ایپ اسٹور۔ صارف آواز سے یا فون کے کنارے لگے نارنجی بٹن سے ایجنٹ کو بلاتا ہے، اور ایجنٹ کام کو کئی چھوٹے اقدامات میں توڑ کر خود انجام دیتا ہے۔ کمپنی کو اس پیشکش پر کانفرنس کا 2026 سیل ایوارڈ بھی ملا۔

نیوِکس الٹرا 16 ستمبر 2026 کو چین میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 5 ہزار یوآن یعنی لگ بھگ 700 ڈالر رکھی گئی ہے اور پہلی کھیپ میں تقریباً دو لاکھ یونٹ تیار کیے گئے۔ فون چار رنگوں میں دستیاب ہے جن کے نام بلیو ہورائزن، بلیک، ڈریم اسکیپ اور وائٹ ہیں۔ بعد کی رپورٹس میں اسنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جنریشن 5 پروسیسر، 7 ہزار 100 ایم اے ایچ بیٹری، تین 50 میگا پکسل کیمروں اور 6.78 انچ 144 ہرٹز او ایل ای ڈی ڈسپلے کی تصدیق ہوئی۔

یہ ڈوباؤ فون کی دوسری نسل ہے۔ پہلی نسل نوبیا ایم 153 دسمبر 2025 میں آئی تھی، جس نے اسکرین پر انسانی چھونے کی نقل کرنے والے ایک طریقے سے وی چیٹ، تاؤباؤ اور علی پے جیسی ایپس میں کام کیا تھا۔ اس کا پہلا بیچ 30 ہزار یونٹ لانچ کے دن ہی فروخت ہو گیا تھا۔ نیوِکس الٹرا میں کمپنی نے راستہ بدلا ہے: زبردستی اسکرین پڑھنے کے بجائے اب ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول اور اے ٹو اے پروٹوکول استعمال کیے جا رہے ہیں، یعنی ایپس سے باقاعدہ رابطے کے ذریعے کام کیا جاتا ہے۔ یہ پروٹوکول اینتھروپک نے بنایا تھا اور اب اس کی نگرانی لینکس فاؤنڈیشن کرتی ہے۔

تاہم اس نئے راستے کی اپنی حدود ہیں۔ لانچ کے وقت صرف تین بیرونی ایپس نے یہ معیاری رابطہ پیش کیا تھا، اور رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2026 کے وسط تک 150 سے زائد ایپس نے اسکرین کنٹرول کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جن میں وی چیٹ اور تاؤباؤ بھی شامل ہیں۔ ادائیگی، رقم کی منتقلی اور بینکنگ کے کام ایجنٹ کے ذریعے نہیں ہو سکتے — یہ کام صارف کو خود کرنا پڑتے ہیں۔ اسی لیے کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فون ابھی ایک تجربہ ہے، مکمل متبادل نہیں۔

نیوِکس الٹرا چین سے باہر دستیاب نہیں ہوگا۔ زیڈ ٹی ای پر امریکہ میں وفاقی مواصلاتی کمیشن کی پابندی ہے، اور کمپنی نے یورپ میں فروخت کا بھی کوئی منصوبہ ظاہر نہیں کیا۔ فون کا زیادہ تر اے آئی کام چینی ایپس کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس لیے چین سے باہر اس کی افادیت محدود رہتی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈوباؤ اسسٹنٹ بنیادی انگریزی آواز اور تحریر سمجھتا ہے، لیکن ایپس کو خود چلانے کی صلاحیت بنیادی طور پر چینی ایپس تک محدود ہے۔

اسٹیپ فن کا اسٹیپ ایکس نیو: ایجنٹ کے لیے بنایا گیا آپریٹنگ سسٹم

دوسری طرف چینی اے آئی اسٹارٹ اپ اسٹیپ فن نے ایک قدم آگے بڑھ کر پورا آپریٹنگ سسٹم ہی ایجنٹ کے گرد بنا دیا ہے۔ اسٹیپ فن 2023 میں مائیکروسافٹ کے سابق نائب صدر جیانگ ڈا شن نے قائم کی تھی، اور اس کے حمایتیوں میں ٹینسنٹ بھی شامل ہے۔ کمپنی نے 13 اکتوبر 2026 کو اسٹیپ ایکس نیو فون پیش کیا، جس کی قیمت 3 ہزار 999 یوآن یعنی تقریباً 560 ڈالر رکھی گئی۔ پری آرڈر اسی شام کھلے اور پہلی فروخت 16 اکتوبر کو ہوئی۔ کمپنی نے اس سے پہلے 13 جولائی کو شنگھائی میں اپنے ایجنٹ، آپریٹنگ سسٹم اور اسٹیپ ایکس برانڈ کی جھلک دکھائی تھی۔

اس فون کا آپریٹنگ سسٹم اسٹیپ اے او ایس 1.0 کہلاتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اینڈرائیڈ کی نقل یا صرف ایک نیا لانچر نہیں، بلکہ اینڈرائیڈ، لینکس اور ریئل ٹائم آپریٹنگ سسٹم کے حصوں سے ازسرنو بنایا گیا نظام ہے، جس میں ایجنٹ بنیادی سطح پر موجود ہے۔ ایجنٹ کا نام امو ہے، جسے پیار سے اے زائی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ فون کی یادداشت کی دو اقسام رکھتا ہے: ایک میں صارف کے حقائق، عادات اور ترجیحات محفوظ ہوتی ہیں، اور دوسری میں یہ درج ہوتا ہے کہ اس نے کام انجام دینے کے بارے میں کیا سیکھا ہے۔ اس سے ایجنٹ وقت کے ساتھ صارف کو بہتر سمجھنے لگتا ہے۔

اسٹیپ اے او ایس کا مرکز ایک ایسا نظام ہے جسے کمپنی ایٹمک کیپبلٹی انجن کہتی ہے۔ اس میں فون کے تمام کاموں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے — پیغامات، ایپس، فائلیں اور سسٹم کی ترتیبات — اور ہر حصہ ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول کے ذریعے ایجنٹ کے لیے قابل رسائی ہوتا ہے۔ یعنی ایجنٹ میسج ایپ کھول کر انتظار نہیں کرتا، بلکہ پیغام بھیجنے کا کام براہ راست طلب کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق قریب 100 کمپنیوں اور مصنوعات نے امو کے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں علی پے، ٹینسنٹ، سی ٹرپ، ڈی ڈی اور میٹوان شامل ہیں۔ تاہم ادائیگی، سفر کی بکنگ اور مواد کی تیاری جیسے کام اب بھی متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے ہی مکمل ہوتے ہیں۔

ہارڈویئر کے لحاظ سے بھی اسٹیپ ایکس نیو ایک مکمل فون ہے۔ اس میں 16 گیگا بائٹ ریم اور 256 گیگا بائٹ اسٹوریج ہے، پیچھے ایک منی ایل ای ڈی میٹرکس ڈسپلے ہے جو ایجنٹ کی سرگرمی ظاہر کرتا ہے، چھ مائیکروفون اور ایک الگ اے آئی بٹن موجود ہے۔ سنٹیانٹ کا این ڈی پی 120 پروسیسر کم بجلی پر ہمیشہ آواز سننے کی سہولت دیتا ہے۔ قیمت میں بارہ ماہ کی اے آئی رسائی شامل ہے، البتہ اس مدت کے بعد اے آئی کی قیمت کیا ہوگی، یہ کمپنی نے نہیں بتایا۔

اسٹیپ فن اپنے بڑے لینگویج ماڈل بھی خود بناتی ہے۔ اس کا مرکزی ماڈل اسٹیپ 5 پری ویو ستمبر میں جاری ہوا تھا۔ اس سے پہلے کمپنی اوپو اور گیلی جیسی کمپنیوں کو ڈیوائس پر چلنے والی اے آئی ٹیکنالوجی فراہم کر چکی ہے، یعنی فون بنانا اس کے لیے بالکل نیا میدان نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیپ فن کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا شراکت دار ایپس ایجنٹ کو اپنے دروازے کھولتی ہیں یا نہیں، کیونکہ ایجنٹ کی طاقت اسی تعاون پر منحصر ہے۔

آنر کا یو یو ایجنٹ اور روبوٹ فون

آنر، جو کبھی ہواوے کا حصہ تھی، اس دوڑ میں ایک مختلف راستے سے آئی ہے۔ کمپنی نے علی بابا کے ساتھ مل کر یو یو ایجنٹ بنایا ہے، جو میجک او ایس 10 والے ہر ڈیوائس میں موجود ہوگا۔ یو یو علی بابا کے کیوون ماڈل پر چلتا ہے، اور اس کا پرو ورژن ایک ہی ہدایت پر 100 سے زائد مراحل کو جوڑ کر کام مکمل کر سکتا ہے۔ یعنی صارف ایک جملہ کہتا ہے اور ایجنٹ اس کے پیچھے چھپی لمبی زنجیر خود چلاتا ہے۔

آنر ایک روبوٹ فون پر بھی کام کر رہی ہے، جس میں اے آئی صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں بلکہ فون کے جسمانی حصے کو بھی حرکت دیتی ہے۔ آنر روبوٹ فون 12 اگست 2026 کو گوانگژو میں لانچ ہوا اور 18 اگست سے چین میں فروخت شروع ہوئی۔ اس کی قیمت 9 ہزار 999 یوآن یعنی تقریباً 1 ہزار 480 ڈالر ہے، جبکہ 16 گیگا بائٹ ریم اور ایک ٹیرا بائٹ اسٹوریج والا ماڈل 12 ہزار 999 یوآن کا ہے۔ فون کے پیچھے ٹائٹینیم کا بنا ایک بازو ہے جو 200 میگا پکسل کیمرے کو فون کے جسم سے باہر اٹھا کر گھماتا ہے۔

یہ گمبل چار سمتوں میں حرکت کر سکتا ہے: وہ کیمرے کو دائیں بائیں گھما سکتا ہے، اوپر نیچے کر سکتا ہے، لڑھکا سکتا ہے اور جسم سے اوپر اٹھا سکتا ہے۔ اسے چلانے والی موٹر کا وزن صرف 2.6 گرام ہے، اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اسمبلی عام گمبلز سے 65 فیصد چھوٹی ہے اور 360 ڈگری فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم سکتی ہے۔ فون میں دو 200 میگا پکسل کیمرے ہیں: مرکزی کیمرہ 1/1.28 انچ سینسر اور ایف 1.6 لینس کے ساتھ بازو پر نصب ہے، اور دوسرا 200 میگا پکسل پیری اسکوپ کیمرہ 2.7 گنا آپٹیکل زوم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ 50 میگا پکسل الٹرا وائیڈ اور 50 میگا پکسل سیلفی کیمرہ بھی ہے۔ بیٹری 7 ہزار 60 ایم اے ایچ کی ہے اور پروسیسر اسنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جنریشن 5 ہے۔

روبوٹ فون کی سب سے دلچسپ بات اس کا رویہ ہے۔ یو یو روبوٹ موڈ میں کیمرہ سر ہلا کر ہاں یا نہ کہہ سکتا ہے، موسیقی پر رقص کر سکتا ہے اور 100 سے زائد چہرے کے تاثرات دکھا سکتا ہے۔ عملی استعمال میں فون میز پر رکھ کر چلتے ہوئے شخص کو خود بخود فالو کر سکتا ہے، یا تپائی پر لگا کر ویڈیو بناتے وقت کیمرے کو مستحکم رکھ سکتا ہے۔ آنر نے اس فون کے ویڈیو حصے کے لیے جرمن سینما کیمرہ کمپنی اے آر آر آئی کے ساتھ شراکت کی ہے۔ البتہ کچھ تجزیہ کاروں نے ان حرکات کو نمائشی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل فائدہ موضوع کی خودکار پیروی اور آواز سے کیمرہ چلانے میں ہے۔

آنر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اس نسل کو چین سے باہر فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ وجہ ہارڈویئر نہیں بلکہ سافٹ ویئر ہے: یو یو چینی صارفین کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور کمپنی کا خیال ہے کہ اگلی نسل دوسرے بازاروں کو بہتر خدمت دے سکے گی۔ پیداوار بھی محدود رکھی گئی ہے، اس لیے یہ فون عام صارف کے بجائے شوقین افراد کے لیے ایک خاص مصنوعات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

سائکلون: پرانے پکسل پر نیا تجربہ

ان تینوں چینی کمپنیوں کے علاوہ ایک نئی امریکی کمپنی سائکلون بھی اسی خیال پر کام کر رہی ہے۔ سائکلون کو وائی کمبینیٹر کی حمایت حاصل ہے اور اسے 2026 میں تھامس کیفر اور ایڈم زینبی نے قائم کیا تھا۔ کیفر پہلے اینڈرائیڈ انجینئر رہ چکے ہیں۔ کمپنی کا نعرہ ہے کہ وہ آئی فون کی جگہ لینے والا اے آئی فون بنانا چاہتی ہے۔ اس کا تجرباتی ماڈل گوگل پکسل 8 اے فونز پر چلتا ہے، جن پر کمپنی کا اپنا سافٹ ویئر نصب کیا گیا ہے۔

سائکلون کی پیشکش کا مرکز ایک چیٹ بوٹ ہے۔ صارف اس سے کہتا ہے کہ میری نوٹیفکیشن سنبھال لو، اور ایجنٹ واٹس ایپ پیغامات پڑھ کر گیلری سے مطلوبہ تصاویر نکال کر دوست کو خود جواب دے دیتا ہے۔ ایک اور مثال میں ایجنٹ گوگل ڈرائیو سے معاہدہ تلاش کر کے اس کا لنک واٹس ایپ پر دوست کو بھیجتا ہے اور پھر اسے کال بھی کرتا ہے۔ اگر کوئی ایپ موجود نہ ہو تو سسٹم موقع پر ہی ایک چھوٹی ایپ بنا لیتا ہے۔ پہلی کھیپ کے خریداروں کو 199 ڈالر کی واپسی کے قابل پیشگی رقم پر پکسل 8 اے پروٹوٹائپ ملتا ہے، جبکہ اصل سائکلون فون کی قیمت 699 ڈالر متوقع ہے اور اس کی ترسیل 2027 کی دوسری سہ ماہی میں ہوگی۔ البتہ بینکنگ اور ادائیگی والی ایپس اس پر کام نہیں کرتیں۔

ایجنٹ فونز کی حدود اور خدشات

ان فونز کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا بڑی ایپس ایجنٹ کو اپنے اندر کام کرنے دیں گی۔ زیڈ ٹی ای اور اسٹیپ فن دونوں کا تجربہ یہی دکھاتا ہے کہ ایپس کا تعاون سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ ادائیگی اور بینکنگ جیسے حساس کام ابھی ایجنٹ کے دائرے سے باہر ہیں، اور یہی وہ کام ہیں جو روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ جب تک بینک اور بڑی ایپس معیاری رابطے نہیں کھولتیں، ایجنٹ فون عام فون کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔

حفاظت کا سوال بھی اہم ہے۔ ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول کے بارے میں 2026 میں امریکی قومی سلامتی ایجنسی کے اے آئی سیکیورٹی سینٹر اور کلاؤڈ سیکیورٹی الائنس نے خبردار کیا تھا کہ اس میں رسائی کے کمزور کنٹرول اور ٹول پوائزننگ جیسے خطرات موجود ہیں، یعنی کوئی خراب ٹول ایجنٹ کو چھپا کر غلط ہدایات دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیشہ آواز سننے والے مائیکروفون اور کلاؤڈ پر بھیجا جانے والا ڈیٹا نجی معلومات کے تحفظ پر سوالات اٹھاتا ہے۔

ایک اور بات یہ ہے کہ سب سے پہلے آنے کا دعویٰ بھی متنازع ہے۔ زیڈ ٹی ای، اسٹیپ فن اور آنر تینوں نے ایک ہی موسم میں اپنے فون پیش کیے، اور ان میں سے کسی کی بھی مکمل تفصیلات شروع میں ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔ اس لیے پہلے ہونے کا خطاب مارکیٹنگ کے وقت کا معاملہ زیادہ لگتا ہے، طے شدہ حقیقت کم۔ صارفین کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون پہلا تھا، بلکہ یہ ہے کہ کس کا ایجنٹ روزمرہ کے کام سب سے بہتر انجام دیتا ہے۔

پاکستان اور باقی دنیا کے صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

پاکستان سمیت چین سے باہر کے صارفین کے لیے یہ فونز ابھی براہ راست دستیاب نہیں ہیں۔ زیڈ ٹی ای پر امریکی پابندی ہے، جبکہ اسٹیپ فن اور آنر نے بھی عالمی فروخت کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم اس رجحان کا اثر پھر بھی سب تک پہنچے گا، کیونکہ یہی خیال اب بڑی کمپنیوں کے سافٹ ویئر میں آ رہا ہے۔ مثال کے طور پر ویوو کے اوریجن او ایس 7 میں جووی نامی اے آئی ایجنٹ شامل کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ویوو، اوپو اور ون پلس کی تازہ خبروں میں تفصیل موجود ہے۔ گوگل کا جیمنائی اور چیٹ جی پی ٹی بھی کلاؤڈ کے ذریعے ای میل، کیلنڈر اور دستاویزات میں کام کر رہے ہیں۔

ٹیگز:اے آئی فونAI agent phoneنیوِکس الٹرااسٹیپ ایکس نیوآنر روبوٹ فونڈوباؤیو یو ایجنٹMCP
← تمام خبریں دیکھیں